تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 214
٢٠٩ ایمان میں تازگی ہو۔اگر آپ پہ لوگ ان باتوں پر عمل کریں گے تو لیکن امید کرتا ہوں کہ اگلے سال کا جلسہ اس سال کے جلسے سے بہت بڑا ہو گا اور اگلے سال کی جماعت اس نسالی کی جماعت سے زیادہ مخلص ہو گی اور اگلے سال کی مالی وسعت اس سال کی مالی وسعت سے کہیں بڑھ کر ہوگی اور خد اتعالیٰ کے فضل کی ہوائیں چلنے لگ جائیں گی۔مایوسی کے بادل چھٹ بھائیں گے امیدیں دلوں میں کلبلانے لگ جائیں گی۔عزم اور لیتین قلوب میں ڈیرہ لگالیں گے اور پھر احمدیت کی روحانی فوج بنی نوع انسان کو گھیر کر خدا تعالیٰ کے دروازے کے آگے لانے کے لئے ایک پر شوکت اور پر سمیت مارچ کر رہی ہوگی۔خدا تعالی آپ کے ساتھ ہو۔والسلام نما کسار مرزا محمود استار (خلیفة المسیح الثانی " نے اس جلسہ سالانہ میں ساڑھے تین سو کے قریب مقامی درویش بزرگوں اور بھائیوں کو الف جلسہ کے علاوہ پاکستان کے 14 افراد شریک ہوئے۔اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف علاقوں مثلا حیدر آباد دکن ہیملٹی ، بہار، یوپی ، بنگال اور کشمیر سے اڑھائی سو احمدی احباب نے شرکت کی جن میں سے حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی چوہڑی اتور احمد صاحب کا ہلوں امیر جماعت احمد یہ کلکتہ ، حضرت حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری اور حضرت سید وزارت حسین صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ بہار کے نام بالخصوص قابل ذکر ہیں۔غیرمسلم حضرات بھی کثرت سے جلسہ میں شریک ہوتے رہے چنانچہ ۲۷ دسمبر کے دوسرے اجلاس میں نو سو کے قریب غیر مسلم حضرات موجود تھے۔شہر کے ہندو سکھ محززین کے علاوہ ڈی سی صاحب گورداسپور۔ڈی ایس پی صاحب گورداسپور آر ایم صاحب بٹالہ۔انسپکٹر صاحب سی آئی ڈی۔پریذیڈ نہ لیے صاحب یو سپین کمیٹی بٹالہ اور پیسٹی آفیسر ز گورداسپور و شملہ بھی جیسے میں شامل ہوئے۔پروفیسر عبدالمجید صاحب سابق سفیر حکومت ہند منتقنه بعدہ بھی تینوں دن میلہ میں شامل ہوتے رہے۔سٹیج کے دائیں طرف اوائے احمدیت امرار رہا تھا جیسے کے پہلے درون درویشان قادیان باری باری اس کا پہرہ دیتے رہے اور آخری دن پاکستان اور ہندوستان کے احباب نے پہرہ دینے کی سعادت حاصل کی۔اس سال احمدی خواتین کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس جلسہ میں شامل ہونے کی توفیق بخشی چنانچہ پاکستان و ہندوستان کی متعدد خواتین پیسے میں شامل ہوئیں جن کے لئے حضرت مولانا سید ا الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۵۰ صفحه ۴-۵ ۲ بٹالہ کے رہنے والے ہیں یونیورسٹی کی سینٹ کے ممبر اور پنجاب سروس کمیشن کے چیئر مین بھی رہے ہیں شملہ میں ان کا مستقل قیام ہے ( مکتوب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے ۱۳ را پریل ۱۹۸۲ء)