تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 9
کی روح پیدا کرے وہاں اس کی بیڑ بھی پالیسی ہوگی کہ وہ سیاسیات سے الگ، رہتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک بہتر فضا پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ہمیں نہایت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی ہندوستانیوں نے مسٹر گاندھی کے ان اعلانات کو بھلا دیا ہے کہ ہر ہندو اور سکھ اور غیر مسلم کو جو پاکستان میں رہتا ہے پاکستان کا مخلص اور وفادار شری ہوکر رہنا چاہیئے۔اور کئی مسلمانوں نے قائد اعظم کے ان اعلانات کو بھلا دیا ہے کہ مہرسلمان کو جو ہندوستان ہیں رہتا ہے ہندوستانی حکومت کا مخلص اور وفا دار شہری ہو کہ رہنا چاہیئے۔ان لیڈروں کے نشاء کے خلاف کچھ لوگ ایسے پیدا ہوگئے ہیںجو یہ مجھتے ہیں کہ سی غیر مسلم کو پاکستان میں رہنا ہی نہیں چاہیے اور اگر ایسا ہو تو پھر پاکستان میں رہنے والے غیرمسلم کو دل میں پاکستان سے دشمنی رکھنی چاہیئے اور ہندوستان میں رہنے والے سلمان کو دل میں ہندوستان سے دشمنی رکھنی چاہئیے۔اگر گاندھی جی اور قائد اعظم کے بیانات نہ بھی ہوتے تب بھی یہ ہندیہ اور روح نہایت افسوسناک اور مذہب اور اخلاق کے خلاف تھی میگا ان دو زبر دست مستیوں کے اعلانات کے خلاف اس قسم کے جذبے کا پیدا ہونا نہایت ہی تعجب انگیز اور افسوسناک ہے۔ہندوستان کی موجودہ دو علاقوں میں تقسیم بن مصلحتوں کے ماتحت ہوئی تھی۔ان علامتوں سے زیادہ کھینچ تان کر اس مسئلہ کو کوئی اور شکل و بینا کسی صورت ہیں جائز نہیں ہو سکتا۔جو تقسیم اٹل ہو گئی تھی تو میں نے اُسی وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اگر تقسیم ہوئی ہی ہے تو پھر کوشش کرنی چاہیئے کہ دونوں ملکوں کے باشندوں کو ایک دوسرے کے ملک میں بغیر پاسپورٹ کے آنے جانے کی اجازت ہو۔تجارت پر کسی قسم کی کوئی پابندیاں نہ ہوں کہ لیکن افسوس کہ اُس وقت میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور شاید آج بھی یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوگی مات حضرت مصلح موعود کے اس خیال کے پیچھے صرف یہ جذبہ کار فرما تھا کہ بھارت کو تبلیغ اسلام کے ذریعہ پھر سے مسلم بند یعنی پاکستان بنانے کا راستہ کھلا رہے چنانچہ فرماتے ہیں۔ہم ہندوستان کو چھوڑ نہیں سکتے یہ ملک ہمارا ہونے وڑوں سے زیادہ ہے۔بہار کی شستی اور غفلت سے عارضی اور پر یہ ملک ہمارے ہاتھ سے گیا ہے۔ہماری تلواریں جس مقام پر جا کر کی ہو گئیں وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ مشروع ہو گا اور اسلام کے خوبصورت اصول کو مشین کے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )