تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 206
فصل دوم کوائف قادیان یہ سال تنظیمی تعلیمی اور تبلیغی لحاظ سے بہت مبارک سال تھا کیونکہ اس میں قادیان نے سیدنا حضرت مصلح موعود کی خصوصی دعاؤں اور توجہات و ہدایات کی بدولت اپنی پوزیشن ایک فعّال مرکز کی حیثیت سے پہلے سے بہت مضبوط و مستحکم بنالی اور ہندوستان میں جماعت احمدیہ کی ترقی کا میدان بھی وسیلے سے وسیع تر ہو گیا۔حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود نے وسط ماه نبوت حضرت مصلح موعود کی اہم کیم (نومبر ۹ہ ) میں قادیان اور بھارت کی دیگیر احمدی جماعتوں ی تیم جدید کے لئے ایک اہم کی تجویز فرمائی جس کی تفصیلات ایک مکتوب سے لڑتی ہیں جو حضور نے ۱۴، ۵ ار ماہ نبوت مہ کو امیر جماعت احمدیہ قادیان کے نام تحریر فرمایا۔حضور نے لکھنا کہ :۔" اب آپ کو پوری طرح کوشش کرنی چاہئیے کہ مختلف جگہوں سے تمہیں نہیں آدمی کم سے کم مستقل مہاجر ہو کر قادیانی آجائیں اور کمپیں تیس آدمیوں کو قادیان سے فارغ کر کے ادھر بھجوا دیا جائے کیونکہ نائباً اتنے لوگ وہاں ہیں جو ادھر آنا چاہتے ہیں یا ان کے حالات ایسے ہیں کہ ان کو ادھر بھیجوا دینا چاہیئے۔اس طرح دینی بارہ نوجوانوں کو بلوا کر دیہاتی مبلغوں کی طرح تعلیم دینی چاہیئے۔مالکانہ مالا بار، بہار اور بنگال سے ایسے آدمی منگوانے چاہئیں اور جو موجودہ دیہاتی مبلغ ہیں وہ تین سال سے پڑھ رہے ہیں انکو باہر بھجوانا چاہیے تاوہ کام کریں۔پہلے موجودہ جماعتوں کو سنبھالنے اور ان کو بڑھانے کی کوشش ہونی چاہیے۔اس کے بعد نئے نئے تبلیغی مرکز مختلف صوبوں میں کھولنے چاہئیں۔یہ وقت انتہائی کوشش کا ہے کوئی مشکل نہیں کہ اگر آپ لوگ توجہ کریں تو سال ڈیڑھ سال میں لاکھ دو لاکھ کی جماعت ہندوستان میں پیدا نہ ہو جائے۔اگر ایسا ہو جائے تو چھ سات لاکھ سالانہ کی آمد آسانی سے قادیان میں ہوتی رہیگی جوزمانہ کے ساتھ بڑھتی چلی جائے گی اور آپ لوگ پھر مدرسہ احمدی روایات کا نہ ہائی سکول تو یتیم الاسلام