تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 205
بعد رسول کریم صل اللہ علیہ سلم نے فرمایا آگے بڑھو اور لٹوئیں نے تلوار سونت لی اور خدا کی قسم اگر اس وقت میرا باپ بھی زندہ ہوتا اور وہ میرے سامنے آجاتا تو میں اپنی تلوار اس کے سینہ میں گھونپ دینے سے بھی ذرا دریغ نہ کرتا۔یہ محبت تھی جس نے اس کی دشمنی کو دور کر دیا۔پس تم محبت سے تبلیغ کرو اور نرمی سے سمجھاؤ اور دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے اندر بھی محبت پیدا کر سے ان کی دنیا داری نبض اور کینہ و فساد کی آگ کو مٹا دے انہیں ایمان بخشے، انہیں اسلام کی محبت بخشے، محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ بخشے اور بجائے اس کے کہ یہ ہمیں مارتے پھر میں یہ بھی آگے بڑھیں اور عیسائیت کے سینے میں خبر گھونپ دیں لے اس تقریر کے بعد حضور نے حاضرین سمیت دعا فرمائی۔ماسہ کے بعد میاں فضل الرحمن صاحب و میا دعوت چائے میں شرکت اور مراجعت محمد اقبال صاحب پر مرنے حضور کے اعزاز میں دعوت عمر انہ پیش کی جس میں کوئی ڈیڑھ سو سے زائد احمدی و غیر احمدی معززین مدعو تھے۔بچائے کے اختتام پر بعض غیر احمدی دوستوں کی فرمائش پر اور حضور کی اجازت سے جناب ثاقب زیر وی صاحب نے اپنی ایک نظم میرا جواب سنائی حضور سے بعض غیر احمدی معززین کا تعارف کرایا گیا۔ان تمام تقاریب کے بخیروخوبی اختتام پذیر ہونے کے بعد حضور معہ قافلہ شام کو چھ بجکر دس منٹ پر واپس عازم ربوہ ہو گئے۔اس مبارک سفر میں ۲۶ نومبر نبوت کی صبح سے لیکر رات کے دس بجے تک مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعت احد یہ سرگودہا اور میاں محمد اقبال صاحب پر اچہ کو حضور کی معیت کا شرف حاصل کرنے اور انتظامات کی نگرانی کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے لے شعبہ زود نویسی کے غیر مطبوعہ ریکارڈ سے ماخوذ ہے ه الفضل ۲۹ نومبر ۱۹ نبوت ۱۳۲۹ ص :