تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 204 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 204

199 بھی نہیں کریں گے۔یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا مگر ہمارے مخالف کہتے تو یہ ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا اور سردار ہیں مگر جو کام یہ لوگ کرتے ہیں وہ آپ کے رویہ کے خلاف ہیں اگر یہ سب لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والے کام کرنے لگ جائیں تو دشمن کس طرح اسلام سے باہر جا سکتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا آپ نے اسے کھانا وغیرہ کھلایا اور رات وہ وہیں سو گیا لیکن جاتے ہوئے وہ بستر پر پاخانہ کر گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا تم نے مہمان پر ظلم کیا کہ اسے پاخانہ کرنے کی جگہ نہ بتائی چونکہ اسے پاخانہ کرنے کی جگہ کا پتہ نہیں لگا اس لئے وہ بہتر یہ ہی پاخانہ پھر گیا۔آپ نے ایک عورت کو بلایا اور اسے فرمایا تم پانی ڈالتی بجاؤ اور کیں خود کپڑا دھوتا ہوں۔اس عورت نے پانی ڈالتے ہوئے کہا خدا تعالیٰ اس شخص کو غارت کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گالی مت دو پتہ نہیں اسے کتنی تکلیف ہوئی ہو۔یہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا ہی نتیجہ تھا کہ لوگ آپ کے پاس آتے اور مسلمان ہوتے جاتے۔جب نور قلب پیدا ہو جائے ، جب وسعت قلب نصیب ہو جائے اور جب روحانیت دکھائی بھائے تو کیا کسی کی عقل ماری گئی ہے کہ وہ جہنم میں جائے تنور میں جان بوجھ کر کوئی نہیں پڑتا جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے غلط فہمی کی بناء پر جائیں گے۔پس تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں سمجھاؤ جب ان کے اندر نور ایمان پیدا ہو جائے گا، جب ان کی محبت تیز ہو جائے گی تو جو لوگ آج تمہارے مارنے کا فتوی دیتے ہیں اگر کوئی تمہیں پتھر مارے گا تو وہ خود اپنے سینہ پر لیں گے۔سول کریم صل للہ علیہ سلم کے تعلق یک واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص نے بظاہر اسلام قبول کر لیا اوروہ جنگ حنین میں شریک ہوا لیکن اس کی نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو یکی موقع پا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کو شہید کر دوں گا جب لڑائی تیز ہوئی تو اس شخص نے تلوار کھینچ لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اکیلے تھے صرف حضرت عباس ساتھ تھے۔اُس شخص نے موقع غنیمت جانا اور آگے پڑھ کر وار کرنا چاہا۔خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو الہانا بتا دیا کہ شخص کے اندر مخالفت کی آگ بھڑک رہی ہے۔وہ شخص خود شہادت دیتا ہے لیکن آپ کی طرف بڑھتا گیا اور میں خیال کرتا تھا کہ اب میری تلوا یہ آپ کی گردن اڑا دے گی لیکن جب یکی آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور سینہ پر رکھ کر فرمایا اے خدا تو اس کو شیطانی خیالات سے نجات دے اور اس کے بغض کو دور کر دے۔وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے بکرم یوں معلوم ہوا کہ آپ سے زیادہ پیاری چیز اور کوئی نہیں۔اسکے