تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 203 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 203

14^ کے لئے انگور بھیجے تھے لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس کا غلام عقیدت مندانہ طور پر آپ کے پاس بیٹھا ہے تو وہ غضب ناک ہو گیا اور اپنے غلام کو بلاکر کہنے لگا شخص میرا رشتہ دار ہے لیکن جانتا ہوں یہ مجنون ہے اس غلام نے کہا یہ نہیں ہوسکتا اس کی باتیں تو نبیوں والی معلوم ہوتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں جب اوکھلی میں سر دیا تو موہلوں کا کیا ڈر۔اگر کوئی صداقت کی مخالفت کرتا ہے تو کسی مومن کو مخالفت سے گھیر انا نہیں چاہیے۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف کو جب شہید کیا جا رہا تھا تو دیکھنے والوں کا بیان ہے اور انہوں نے شہادت دی ہے کہ جب آپ پر پتھر برسائے جارہے تھے اس وقت آپ یہ کہہ رہے تھے اسے اللہ ! تو ان لوگوں پر رحم کر دراصل ان کو پتہ نہیں کہ میں کون ہوں یہ مجھے جھوٹا اور مرتد خیال کرتے ہیں اور اپنے خیال میں ایک نیکی کا کام کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جس کے اندر سچائی ہوتی ہے وہ تکالیف اور مصائب سے گھبراتا نہیں۔لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ اپنا رستہ چھوڑ نہیں دیتا وہ کہتا ہے اچھا جتنا ستانا ہے ستالو جب اس کے پاس حقیقت ہے تو وہ ڈرے گا کیوں۔ہاں اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس سچائی نہیں تو وہ بے شک ڈرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجران کے عیسائیوں کا جب وفد گیا تو ان سے تبادلہ خیال ہوا مسجد میں بیٹھے کر گفت گو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہو گئی۔وہ باتیں سنتے رہے آخر انہوں نے کہا ہماری نماز کا وقت ہو گیا ہم باہر جا کر نماز ادا کرلیں نبی کریم نے فرمایا آپ اپنی عبادت ہماری مسجد میں ادا کر نہیں آخر ہماری مسجد خدا تعالیٰ کے ذکر ہی کے لئے بنائی گئی ہے لیکن اب یہ رواداری باقی نہیں مسجدوں پر اب یہ لکھا ہوا ہوتا ہے اس مسجد میں کوئی وہابی گنا یا مرزائی سور داخل نہ ہو۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم جن کی اتباع کا یہ لوگ دعوئی کرتے ہیں وہ تو عیسائیوں سے فرماتے ہیں تم اپنی عبادت ہماری مسجد میں ہی کر لو لیکن یہ لوگ مسلمانوں کو بھی مسجد میں عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں اب یہ حدیث میری لکھی ہوئی نہیں ہے لیکن اس وقت موجود نہیں تھا جب بخاری اور مسلم لکھی گئی تھی۔انہیں پتہ بھی نہیں تھا کہ میں کس زمانہ میں پیدا ہوں گا۔جب فتح مگر ہوئی تو رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کے متعلق یہ احکام نافذ کئے تھے کہ جہاں کہیں بھی وہ ملیں قتل کر دئے جائیں ان لوگوں میں ایک عکرمہ بھی تھے۔آپؐ کے پاس عکرمہ کی بیوی آئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ میرے خاوند کو قتل کرنے کے احکام واپس لے لیں اور اسے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے مکہ میں رہنے کی اجازت دیں۔آپ نے نے فرمایا اچھا اگر وہ یہاں آجائے تو ہم صرف اسے معاف ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کے مذہب میں یہ خطرات