تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 196
141 الزام رکھتے ہو قرآن کریم میں سب کچھ لکھا ہے اسے پڑھو اور پھر اس پر عمل کرو۔ان کے سامنے احادیث رکھو اور کہو کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ سب احادیث میں پہلے سے موجود ہے ہم نے اپنے پاس سے یہ عقیدہ نہیں گھڑ لیا بلکہ آج سے کئی سو سال پہلے یہ بات احادیث میں لکھی ہوئی موجود تھی اس طرح ایک شخص جس کے اندر کفر اور ارتداد پیدا نہیں ہوا وہ جب دیکھے گا کہ خدا تعالٰی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طریق کے اختیار کرنے پر خوش ہیں تو اس کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔جس طرح نظام الدین نے کہا تھا کہ جد در قرآن ادھر ہیں۔یہ لوگ بھی کہیں گے بدھ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ادھر ہم۔اور تم دیکھوگے کہ جو لوگ آج قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہاری پھائے نہیں ہٹیں گے تمہیں ماریں گے اور تمہارا بائیکاٹ کر ینگے وہ تمہارے ساتھ چھوٹ جائیں گے اور کہیں گے جد مصر قرآن ادھر ہم انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم سے دشمنی نہیں۔انہیں یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے دشمن ہو۔تم ان پہ ثابت کر دو کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے دشمن نہیں دوست ہیں پھر ان کے دل صاف ہو جائیں گے۔ابھی مسلمانوں کے اندر انسانیت زندہ ہے، ان کے اندر محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت کی چنگاری موجود ہے تم اسے ٹھنڈا کرنے کی بجائے گرم ہوا دو یہ مخالفت خود بخود ہٹ جائے گی۔یہاں آیا تو یکی بمیار کی حالت میں ہوں اور جیسا کہ دوستوں کو محسوس ہو رہا ہوگا کہ میرا گلا بیٹھ رہا ہے اور یکن بولنا نہیں چاہتا تھا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے نہیں مدتوں کی انتظار کے بعد اس بستی میں آیا ہوں اور اس نہستی سے مجھے رومانی اور جسمانی تعلق ہے۔اس سینتی کے ایک معزز گھرانے کی لڑکی میری بیوی تھی اور اس ہیوی سے میری اولاد بھی ہے۔پھر اس بستی کے ایک معزز شخص سے میں نے قرآن کریم اور بخاری کا ترجمہ پڑھا۔پس اس بستی سے مجھے روحانی اور جسمانی نسبت ہے۔میرا دل کہتا ہے کہ جس کو میں سچا سمجھتا ہوں، اس کو یہاں کے رہنے والے لوگ بھی سچا سمجھنے لگ جائیں اور جس طرح ان کا حق ہے کہ وہ مجھے کیں تم غلطی پر ہو ہم سے کہتے ہیں اسی طرح میرا بھی حق ہے کہ میں انہیں کہوں میں حق پر ہوں تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ یہ ناپسندیدہ امر ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو کہے مجھے تو تمہیں غلطی میں مبتلا تجھے کا حق ہے لیکن تمہیں ایسا کرنے کاحق حاصل نہیں۔کوئی مذہب ایسا نہیں جس کا تم نام لو اور میں نے اسکی کتا ہیں نہ پڑھتی ہوں۔ایک پاگل شخص جو مولوی محمد علی صاحب کی جماعت سے تعلق رکھتا اسے رہ کبھی کبھی