تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 195 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 195

19۔اور جب حضرت ابراہیم کو معلوم ہوا کہ اس بستی میں دسن مومن بھی نہیں تو آپ نے دعا کرنی چھوڑ دی۔اسی طرح میاں نظام الدین صاحب بھی دنی آیات پر آگئے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا نہیں دینی آیات تو کیا وہ ایک آیت سے ہی حیات مسیح ثابت کر دیں تو وہ کہنے لگے آخرقرآن کریم میں حیات بسیج کو ثابت کرنے والی اتنی کم آیات تو نہیں ہوں گی وہ خوشی خوشی لاہور پہنچے مولوی محو میں صاحب ابٹالوی اس وقت مسجد چینیاں والی میں بیٹھے تھے اور وہ وہ دن تھا جب حضرت خلیفہ اسی اولی منی نے یہ بات مان لی تھی کہ قرآن کے علاوہ آپ بخاری بھی پیش کر سکتے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب بہت خوش تھے کہ وہ بالآخر حضرت خلیفہ مسیح اول کو قرآن کریم سے ہٹا کر احادیث پر لے ہی آئے ہیں مولوی محمد حسین صاحب میں خود نمائی کا شوق پایا جاتا تھا وہ اپنے شاگردوں کو بتا رہے تھے کہ مولوی نور الدین نے مرزا صاحب کا شاگرد ہے اور بہت بڑا طبیب ہے میں نے اسے یوں رگیدا اور یوں لتاڑا اور آخر وہ احادیث کی طرف آہی گیا۔اتنے میں میاں نظام الدین صاحب آگئے اور انہوں نے مولوی محمد سید صاحب بٹالوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ یونہی کام خراب کر رہے ہیں مرزا صاحب تو سیدھے سادھے آدمی ہیں اور وہ قرآن کریم کو مانتے ہیں میں انہیں یہ بھی منوا آیا ہوں کہ اگر قرآن کریم میں سے ہم دنی آیات حیات مسیح کی نکال دیں تو وہ دہلی یا لاہور کی کسی مسجد میں وفات مسیح کے عقیدہ سے توبہ کرلیں گے اور یہ دس آیات بھی یکی نے ہی کہی ہیں ورنہ وہ تو کہتے ہیں کہ تم حیات سیح کی ایک ہی آیت قرآن کریم سے نکال دو لیکن میں نے کہا دنل سے بھی کیا کم آیات ہوں گی۔آپ مولوی نور الدین صاحب سے جھگڑا کرنا چھوڑ دیں اور دس آیات حیات مسیح کی بتا دیں مولوی محمد حسین صاحب غصہ میں آکر کہنے لگے تم کو کس نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتے ہیں مولوی نور الدین کو گھسیٹ کر حدیث کی طرف لایا ہوں اور تم پھر قرآن کریم کو بیچ میں لے آئے ہو۔میاں نظام الدین صاحب اس صدمہ میں چند منٹ خاموش بیٹھے رہے پھر کہنے لگے اچھا مولوی صاحب عبد ھر قرآن ہے ادھر ہیں۔اور اس کے بعد قادیان بنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرلی۔پر حقیقت یہی ہے کہ جومسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت رکھتا ہے اس کے دل میں یہی ہے کہ جدھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ادھر میں ہوں تم جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ لوگ تمہیں دھوکہ دیتے ہیں اور تم دھوکہ میں آکر ہماری مخالفت کرتے ہو تم ان کے سامنے قرآن رکھو اور کہو ہم پر کیا