تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 189
IN باپوں نے مرزا صاحب کو کیا کچھ کہا ہے۔اس لئے وہ مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں تم ان کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے ان کی کتابیں رکھ دو اور بتاؤ کہ تمہارے علماء نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ اسلام کو یہ یہ گالیاں دی ہیں اور کیا یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔بعض غیر اسلامی گالیاں نہیں اور بعض غیر اسلامی نہیں مثلاً احمق ہے کسی کو احمق کہنا شرافت کے تو خلاف ہے لیکن اسلام کے خلاف نہیں۔لیکن اگر کوئی حرام زادہ کہہ دیتا ہے تو یہ اسلام کے خلاف ہے اسلام نے ایسا کہنے سے منع فرمایا ہے۔پھر اس قسم کی احادیث موجود ہیں کہ اگر کوئی کسی کو بڑا کلمہ کہتا ہے تو وہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔اب یا تو یہ باتیں احادیث سے نکال دو اور اگر انہیں احادیث سے نہیں نکالتے تو پھر غصہ میں کیوں آتے ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ خود کا فر ہو جاتا ہے اگر کوئی کسی کو کا فرکھتا ہے تو وہ خود کا فر ہو جاتا ہے۔اب یا تو یہ حدیث کاٹ دو اور یا ہماری بات مانو ہم کوئی نیا فتوئی نہیں دیتے آج سے چودہ سو سال قبل سے یہ باتیں کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں ہم تو آج پیدا ہوئے ہم امام مسلم کے ساتھ تو نہیں بیٹھے تھے ہم امام بخاری کے ساتھ تو نہیں بیٹھے تھے ہم ابو داؤد اور ترمزی کے ساتھ تو نہیں بیٹھے ہم نسائی اور ابن ماجہ کے پاس تو نہیں بیٹھے تھے لیکن ان بزرگوں نے اپنی اپنی کتابوں میں یہ باتیں لکھی ہیں اور وہ اب تک موجود ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بہبودی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں یہ جھوٹا ہے اللہ تالے کہتا ہے تم اسے جھوٹا کیونکر کہ سکتے ہو ؟ حضرت موسی علیہ السلام کی کتاب میں جو پیش گوئیاں اس کے متعلق پائی جاتی ہیں اور وہ اس کے حق میں پوری ہو گئی ہیں کیا وہ پیش گوئیاں اس نے موبی نی علیہ السلام کو لکھوا دی تھیں۔اگر آج سے کئی سو سال قبل کی لکھی ہوئی باتیں اس شخص کے حق میں پوری ہو جاتی ہیں تو یہ شخص یقینا سچا ہے اگر یہ جھوٹا ہوتا تو خدا تعالیٰ اتنے سو سا! قبیل کی کسی ہوئی باتیں اس کی ذات میں کیوں پوری کرتا غرض جو بات مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کے اعتراضات کے جواب میں کہتے ہیں وہی بات ہم کہتے ہیں کہ سلم اور بخاری میں یہ باتیں لکھی ہیں ہم تو اس وقت موجود نہیں تھے کہ ہم نے خود یہ باتیں لکھوا دیں۔اگرتم کہو کہ میں مسلم اور بخاری کے وقت میں موجود تھا تو تمہیں یہ بھی مانا پڑے گا کہ کیں فرشتہ ہوں اور اگر میں فرشتہ ہوں تو تم فرشتے کی کیوں مخالفت کرتے ہو اور اگر میں انسان ہوں تو صات بات ہے کہ یہ باتیں میں نے مسلم اور بخاری کو نہیں لکھوائیاں پھر اگر انہوں نے یہ باتیں خدا تعالیٰ کی