تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 178 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 178

بیٹی کے پاس نہیں یہی ہار اپنی والدہ کی ایک یادگار ہے اس کے سوا اور کوئی یاد گار نہیں۔مجھے یہ ہار دیکھ کر امر یہ ہوا کہ باوند کی جان بچانے کے لئے میری بیٹی نے ایک ہی چیز جو اس کے پاس والدہ کی یادگار علی بطور فدیہ بھیج دی ہے۔اگر آپ لوگ خوشی سے اسے معاف کر دیں تو ئیں یہ ہار واپس کر دوں یا کہ رام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جانیں قربان کرنے کے لئے تیار تھے۔ہار کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی صحابہ نے عرض کیا اس سے زیادہ خوشی ہمارے لئے اور کیا ہوگی کہ ہم اس ہار کو جو حضرت خدیجہ جے نے اپنی بیٹی کو بطور تحفہ دیا تھا اسے واپس کر دیں چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار واپس کر دیا۔دیکھو سونے میں کیا رکھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا وطن چھوڑا ، جائدادیں چھوڑیں، مکان چھوڑے اور شیت الہی کے مقابلہ میں ان کی کچھ پروا نہ کی۔پھر آپ کی شان تو بڑی تھی صحابہ نے بھی اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیا لیکن سونے کے اس بہار کو دیکھ کر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچا اس لئے کہ یہ حضرت خدیجہ کا دیا ہوا ہار تھا سونے کا سوال نہیں اگر وہ مٹی کا بھی بنا ہوا ہوتا تو آپ کو تکلیف ہوتی کیونکہ اس کا جذبات کے ساتھ تعلق تھا۔پس امتہ الحی نے مرنا تھا اور وہ مرگئی۔میں پہلے مر جاتا یا وہ پہلے مرگئی اس میں کوئی فرق نہیں یہ خدا تعالیٰ کا قانون تھا جو پورا ہو الیکن یہ جذبات کی چیز ہے کہ جب ہم دونوں باتیں کیا کرتے تھے تو میں ان سے وعدہ کیا کرتا تھا کہ میں تمہیں تمہارے ابا کا وطن دکھاؤں گا لیکن جب وقت آیا کہ میں نے بھیرہ دیکھا تو وہ ہستی جس سے میں وعدہ کیا کرتا تھا کہ میں اسے اس کے ابا کا وطن دکھاؤں گا وہ دنیا سے گزر چکی تھی۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مجھے یہاں آنے کی دیرینہ خواہش تھی۔مقامی جماعت کے بعض دوست ڈرتے تھے کہ کہیں دوسرے لوگ شورش نہ کریں اور انہوں نے چاہا کہ میں بھیرہ نہ چلوں لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر یہاں کے لوگ میری وجہ سے شورش کیوں کریں گے۔آخر کوئی کسی کے عادت ہوتا ہے تو اس لئے کہ وہ اس کا کام بگاڑتا ہے میں نے ان کا کیا بگاڑا ہے کہ وہ میرے خلاف ہوں گے۔اگر کوئی شخص میرے یہاں آنے کی وجہ سے شورش کرے گا تو وہ غلط فہمی کی بناء پر ہوگی۔وہ اس خیال سے شورش کرے گا کہ میں (نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہوں مجھ کو تو یہ خالفت اچھی لگتی ہے کہ یہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ) کی محبت کی وجہ سے ہے۔آخر دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہاں کسی سے میرا زمین کا جھگڑا ہے یا مکان کا جھگڑا ہے۔لیکن گورداسپور کا رہنے والا