تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 175 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 175

12۔اور معنے نہیں بتائے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ مجھے صرف اتنے ہی معنے آتے ہیں۔پھر فرماتے میاں ! اتنا تو سوچو کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے اللہ کا بندہ میں ہی ہوں یا تم بھی ہو۔کیا یہ میرا ہی فرض ہے کہ اسلام پر جو اعتراض پڑتا ہے اس کا جواب دوں۔اور جن معنوں کو یکس سمجھ نہیں سکا وہ بھی بتاؤں یا تمہارا بھی فرض ہے کہ تم خود سوچو اور اسلام پر پڑنے والے اعتراضات کا جواب دو تیم سوال نہ کیا کرو بلکہ خود سوچا کرو اور ان اعتراضات کے خود جواب دیا کرو۔آپ نے جو کچھ مجھے پڑھایا میں اس کی بھی قدر کرتا ہوں لیکن جو آپ نے مجھے نہیں پڑھایا وہ میرے لئے زیادہ قیمتی ہے کیونکہ جونہی یہ آواز کہ کیا صرف میرا ہی فرض ہے کہ اسلام پر پڑنے والے شبہات کا جواب دوں یا تمہار ابھی فرض ہے۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں میں ہی اللہ کا بندہ ہوں ا تم بھی اللہ کے بندے ہو تیرے کانوں میں پڑی اس نے میرے اندر ایک آگ لگا دی۔گویا اسرافیل فرشتے نے صور پھونکا ہے میں نے پوچھنا بند کر دیا اور سوچنا شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے علم کے سمند ر سکھا دیے۔اب اگر کوئی اسلام کا دشمن اسلام پہنتے ہی اعتراض کرنے میں انہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم سے ہی رو کر سکتا ہوں۔چونکہ بھیرہ آنے کا شوق مجھے مدت سے تھا اس لئے یہاں آکر میں خوش بھی ہوں کہ میری ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی مگر بھیرہ کی دیواروں میں داخل ہونے کے بعد میرے دل کے زخم دوبارہ ہرے ہو گئے بھیرے کی ہی ایک لڑکی امتہ الحی سے جو سنضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں میری شادی ہوئی اور ہم دونوں میں بہت محبت تھی۔بے وقوف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اسلام اور روحانیت کے یہ معنے ہیں کہ میاں کو بیوی سے محبت نہ ہو اور بیوی کو میاں سے محبت نہ ہو لیکن جو لوگ اسلام اور روحانیت کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اسلام ہی ایک مذہب ہے جو خاوند کو بیوی سے اور بیوی کو خاوند سے محبت کا حکم دیتا ہے۔بحضرت عائشہ یہ فرماتی ہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم لبعض دفعہ جس گلاس میں ہم پانی پیتیں اسی گلاس میں اسی جگہ ہونٹ رکھ کر پانی پیتے اور فرماتے ہیں یہ بتانے کے لئے ایسا کرتا ہوں کہ مجھے تم سے کتنی محبت ہے۔پھر حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک دفعہ میرے سر میں شدید درد ہو رہا تھا ئیں تڑپ رہی تھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے فرمایا، عائشہ، صبر کرو لوگ بیمار ہوا ہی کرتے ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں شدت درد سے مجھے تکلیف ہو رہی تھی اور رسول کریم