تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 176
141 صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو جو مجھے دین سکھانے کے لئے تھی سمجھی نہیں مجھے غصہ آگیا کہ مجھے شدید سر درد ہو رہا ہے اور بجائے اس کے کہ آپ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کرتے آپ کہتے ہیں صبر کر و لوگ بیمار ہوا ہی کرتے ہیں۔میں نے غصہ سے کہا یا رسول اللہ آپ کو کیا میں مر جاؤں گی تو دوسری شادی کر لیں گے۔حضرت عائشہ تکلیف میں کہتی تھیں۔ہائے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا عائشہ اگر یہ بات ہو تو ہائے تو نہیں۔ہائے ہیں۔اور چند دن کے بعد آپ بیمار ہو کر فوت ہو گئے۔حضرت عائش جب تک زندہ رہیں ہمیشہ ہی اس بات پر افسوس کیا کرتی تھیں کہ میں نے یہ فقرہ کہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچا کہ میں نے آپ کی محبت پر شبہ کیا ہے کاش میں یہ فقرہ نہ کہتی اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے پہلے مرجاتی تا یہ صدمہ نہ دکھتی۔غرض نا واقف اور جاہل لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ ایک مسلمان کے معنے ہیں کہ وہ کوئی پتھر دل کا انسان ہے۔گویا مسلمان وہ ہے جس میں محبت اور وفا کے جذبات پائے ہی نہیں بھاتے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت اور وفا کا مجسمہ تھے۔ایک دفعہ آپ ایک مجلس میں بیٹھے صحابہ سے باتیں کر رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا۔یارسول اللہ ! آپ کی بیٹی آپ کو بلا رہی ہے کیونکہ اس کا لڑکا بیمار ہے آپ باتوں میں مشغول تھے آپ نے فرمایا اچھا آتا ہوں اور پھر باتوں میں لگ گئے تھوڑی دیر کے بعد پھر ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ آپکی بیٹی یاد فرماتی ہیں۔لڑکے کی حالت زیادہ خراب ہے۔آپ نے فرمایا اچھا آتا ہوں اور پھر باتوں میں شغول ہو گئے تیسر شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ جلدی تشریف لائیے لڑکے کی حالت بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔آپ تشریف لے گئے اور اپنے نواسہ کو گودمیں لے لیا۔تھوڑی دیر میں اس کی جان نکل گئی آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔آپ کے پاس ایک انصاری تھے وہ بھی ملانوں کی ذہنیت کے تھے۔انہوں نے کہا آپ خدا تعالیٰ کے رسول ہیں اور رو رہے ہیں بھلا رسول کو جذبات سے کیا تعلق۔آپ نے فرمایا نمدا تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر خواہ وہ رسول ہو یا غیر رسول محبت کے جذبات پیدا کئے ہیں اگر بخدا تعالیٰ نے تمہیں محبت کے جذبات سے محروم رکھا ہے تو میرے پاس اس کا کیا علاج ہے۔مرض آج سے چھتیس ستائیں یا اٹھائیس سال پہلے اعتہ ابھی مرحومہ سے جب ہم دونوں باتیں کیا کرتے تھے میں کہا کرتا تھا کہ میں تمہیں تمہارے ابا کے وطن لے جاؤں گا پھر اللہ تعالیٰ کی مشقت کے ماتحت