تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 171 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 171

196 جب مکہ و مدینہ شریف سے واپسی پر سارے بھیرہ والوں نے حضور کا مجلسی اور تمدنی بائیکاٹ کر دیا تھا یعنی کہ توروالوں نے روٹی تک پکانے سے انکار کر دیا لیکن کریم دین نے ہر قسم کے لالچ اور رعب داب کی پروانہ کرتے ہوئے حضور سے بائیکاٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا حضور نے بھی اس کے اس اقدام کی قدر کی اور اس کو اپنے آبائی مکان کا ایک حصہ دے دیا جس میں اس کے خاندان کے بعض لوگ اب بھی رہتے ہیں۔اس واقعہ کا دوہرانا تھا کہ حضور کی آنکھوں میں وہ زمانہ پھر گیا اور آپ نے خواہش کی کہ گو اس کا لڑ کا غیر احمدی ہی ہے لیکن اُس سے کہا جائے کہ وہ میرے لئے روٹی اپنے ہاتھ سے پکائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ایسا ہی ہوا اور احمدیت کے اس عظیم الشان خلیفہ نے اس کریترین کے بیٹے غلام احد کے ہاتھ سے پکی ہوئی روٹی کھائی جس کے باپ نے کبھی احمدیت کے شیدائی اور آپکے شفیق استاد سے مصائب کے دور میں وفا کی تھی۔حضور دیر تک مسجد نور میں کھڑے ہو کر حضرت خلیفہ اسبح الاول رضی اللہ عنہ کے خاندانی حالات ، جائداد، اور اوائل زندگی کے واقعات کے متعلق بھیرہ کے عمر رسیدہ احباب سے دریات فرماتے رہے۔پھر اس مسجد میں شکرانے کے دو نفل ادا کئے پھر صدرمقامی مخدوم محمد ایوب صاحب کی استدعا پر مسجد میں سنگ مرمر کا ایک یاد گار کتبہ نصب فرمایا جس پر حضور کی بھیر میں تشریف آوری کا ذکر تھا اور اس کے بعد دعا فرمائی۔مکانات کے ملاحظہ کے بعد سید نا حضرت خلیفہ اول کا وہ مطلب دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے جو ر ہائشی مکانات میں تبدیل کیا جاچکا تھا۔بچے، بوڑھے ، جو ان پر وانوں کی طرح گرنے پڑتے تھے مستورات دو رویہ چھتوں پر سے پھول نچھاور کر رہی تھیں۔راستے میں مختلف موڑوں پر دروازے نصب تھے جن پر شہری حروف میں اَهْلاً وَ سَهْلاً وَ مَرْحَبًا لکھا ہوا تھا اور فضا ہر دو منٹ بعد اسلام زنده باد احمدیت زنده باد " حضرت امیر المومنین زندہ باد کے پر جوش نعروں سے گونج اٹھتی تھی۔الغرض ایک عجیب بابرکت ہما ہمی تھی جس نے عقیدتوں کو پر لگا دیئے تھے۔مطب کے دیکھنے کے بعد حضور محمد افضل صاحب ملک کے مکان پر تشریف لے آئے ہیں جماعت کی طرف سے وسیع پیمانے پر دعوت طعام کا انتظام تھا۔کھانا تناول کرنے کے بعد حضور نے تھوڑی دیر تک آرام فرمایا مگر یہ آرام محض بیٹھنے تک ہی محدود تھا کیونکہ اس کے دوران بھی حضور سے تعارف