تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 172 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 172

14A کا سلسلہ جاری رہا اور حضور بھیرہ اور بھیرہ والوں کے متعلق استفسارات فرماتے رہے۔نماز ظہر کے لئے حضور جماعت احمد یہ بھیرہ کی دوسری مسجد میں تشریف لے گئے اور نظر و عصر کی نمازیں پڑھائیں۔نمازوں کے معا بعد امیر جماعت مقامی کی استدعا پر پہلے آپ نے ایک سنگ یادگار اس مسجد میں نصب فرمایا اور پھر دعا کے بعد بر سر منبر تشریف لے آئے۔حافظ مبارک احمد صاحب نے تلاوت کلام پاک کی اور جناب ثاقب زیر وی نے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک نعت پڑھی۔بعد ازاں مخدوم محمد ایوب صاحب ہی۔اسے (علیگ) صدر جماعت احمدیہ بھیرہ نے مقامی جماعت کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا۔سپاسنامہ کے بعد حضرت امیر المومنین الصلح الموعود حضرت امیر المومنین کا اہل بھیرہ سے نے ایک پر معارف اور نہایت ایمان افروز خطاب پر معارف اور ایمان افروز خطاب فرمایا جوپانچ منٹ کم دو گھنٹہ تک جاری رہے حضور نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ایک ربع صدی سے زیادہ عرصہ ہوا یعنی قریباً تیس سال ہوئے جب سے میرے دل میں ایس شہر میں آنے کا شوق ہوا۔بھیرہ بھیرہ والوں کے لئے ایک اینٹوں اور گارے یا اینٹوں اور چونے سے بنا ہوا ایک شہر ہے مگر میرے لئے یہ اینٹوں اور چونے کا بنا ہوا شہر نہیں تھا بلکہ میرے استاد جنہوں نے مجھے نہایت محبت اور شفقت سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا اور بخاری کا بھی ترجمہ پڑھایا ان کا مولد ومسکن تھا۔بھیرہ والوں نے بھیرہ کی رہنے والی ماؤں کی چھاتیوں سے دُودھ پیا ہے اور یکس نے بھیرہ کی ایک بزرگ ہستی کی زبان سے قرآن کریم اور حدیث کا دودھ پیا پس بھیرہ والوں کی نگاہ میں جو قدر بھیرہ شہر کی ہے میری نگاہ میں اس کی اس سے بہت زیادہ قدر ہے۔بچپن سے ہی میری صحت کمزور تھی اور میں اکثر بیمار رہتا تھا جس کی وجہ سے یکس پڑھنے میں بھی کمزور تھا۔میری آنکھوں میں گھرے تھے اور گلے میں سوزش رہتی تھی اس لئے نہ تو میں پڑھ سکتا تھا اور نہ دیکھ سکتا تھا۔اس وقت حضرت خلیفہ اول مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نے جو بھیرہ کے رہنے والے تھے مجھے بلا کر کہا میاں ! تم مجھ سے قرآن پڑھا کرو تمہیں نہ دیکھنے کی تکلیف ہوگی اور نہ پڑھنے کی تکلیف ه الفضل ۲۹ نومبر ۹۵ رصد