تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 168 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 168

۱۶۴ دوسرا باب حضر مصلی بود کاری یاراحمدریای عماد الشتری تک رماه نبوت ۳۲۹ بار نومبر ۱۹۹۵ احسان ۳۳ ارجون (۱۹۵) - فصل اوّل حضرت مصلح موعود کا سفر بخیر بھیرہ کی سرزمین تاریخ احمدیت میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی میں حضرت حاجی الحرمین حکیم الامت علیفہ مسیح الاول مولانا نورالدین جیسا نورانی اور پاک وجود پیدا ہوا سرسید نا حضرت میں موجود علیہ السلام نے ایک بار فرمایا کہ بھیرہ کو قادیان سے ایسی مناسبت ہے جیسے کہ مدینہ کو منکر سے کیونکہ پھیری سے ہم کو نصرت علی ہے یا ملے حضرت مصلح موعود ایک مدت سے بھیرہ تشریف لے بھانے کا ارادہ رکھتے تھے اور آپ نے نہ صرف اپنی حرم محترم اور حضرت خلیفہ اول نہ کی صاحبزادی حضرت امتہ الحی صاحبہ سے اُن کی زندگی میں اس کا وعدہ کیا تھا بلکہ ان کی وفات (۱۰- دسمبر ۱۹۲۳ م ) کے بعد احباب جماعت کے سامنے بھی اپنی اس دلی آرزو اور خواہش کا اظہار فرمایا چنانچہ سالانہ جلسہ الہ کے موقع پر اعلان فرمایا :- "یہ بھی ارادہ ہے کہ آنے والے سال میں اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کا ٹور کروں پر ہما کے دوستوں کا خیال ہے کہ میرے جانے سے اچھی تبلیغ ہو سکتی ہے۔بنگال ذکر حبیب ص ۱۶۲ ) مولفہ حضرت مفتی محمد صادق بها حب مبلغ اسلام امریکہ)