تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 166
۱۶۲ باقی لوگوں کے دلوں کو فرشتوں نے خود بدل ڈالا۔پس اس بات کو عجیبہ نہ سمجھو کہ تمہاری تبلیغ کے نتیجہ میں دنیا کس طرح احمدی ہو جائے گی۔تمہاری تبلیغ صرف تمہارے ایمان کو ثابت کرے گی تمہاری تبلیغ صرف تمہارے یقین کو ثابت کرے گی۔تمہاری تبلیغ صرف تمہارے تعلق باللہ کو ثابت کرے گی۔تمہاری تبلیغ صرف اس بات کو ثابت کرے گی کہ تم خدائی قانون کے معترف ہو جس دن یہ مقام تمہیں حاصل ہوگیا اور جس دن تم نے یہ ثابت کردیا کہ خدا کے حکم کی کمیل میں تم کسی سے نہیں ڈرتے اس دن وہ آپ ہی آپ لوگوں کے دلوں کو بدل دے گا جیسے رسول کریم صلے اللہ علیہ سلم نے اس زمانہ کے متعلق خبری دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن ایسے ہوں گے کہ رات کو لوگ کا فرسوئیں گے اور صبح اٹھیں گے تو مسلمان ہوں گے پھر خدا خو د لوگوں کے دلوں کو بدلے گا اور وہ انہیں کھینچتے ہوئے تمہاری طرف لے آئے گا۔دو ارب دنیا کے دلوں کو بدلنا تمہارے اختیار میں نہیں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔خدا تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے دلوں کو بدل دو اور یہی تبلیغ کانتیجہ ہوتا ہے تبلیغ یہ نتیجہ پیدا نہیں کرتی کہ دنیا مسلمان ہو جائے تبلیغ پر تیجہ پیدا کرتی ہے کہ تم مسلمان ہوجاؤ۔اگر تم تبیان نہیں کروگے تو اسکے منے یہ ہیں کہ تم ڈرتے ہو کہ لوگ ہمیں دُکھ دیں گے لیکن جب تمہارے اندر تبلیغ کا جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ جوش ثابت کر دیتا ہے کہ تم لوگوں سے نہیں ڈرتے تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کہتا ہے مخالفت کا زمانہ ختم ہوگیا۔کفر کا زمانہ جاتا رہا بجاؤ اور ہمارے مامور کی ڈیوڑھی پر سر رکھ دو کہ اس کے بغیر تمہاری نجات نہیں۔اور جب خدا کہتا ہے تو دنیا آپ ہی آپ کبھی چلی آتی ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے عیسائیت کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا۔ایک دن عیسائیوں کے پادری روم کے گڑھوں اور ان کی غاروں میں پناہ لئے بیٹھے تھے شام کے وقت ان کے قتل کے فتوے جاری تھے اور صبح کو تمام روم میں ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا کہ بادشاہ نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ عیسائیت سچا مذہب ہے اس لئے روم کا بادشاہ عیسائی مذہب میں شامل ہوگیا ہے۔آئندہ حکومت کا مذہب عیسائیت ہو گا۔آج سے جو عیسائیوں کو دکھ دے گا یا ان کو قتل کرے گا وہ پکڑا جائے گا اور اسے سزادی جائے گی۔شام کو وہ اس غم سے سوتے ہیں کہ یہ معلوم صبح تک ہم میں سے کون زندہ رہے اور کون مارا جائے۔اور صبح کو اُٹھتے ہیں تو وہ دنیا کے بادشاہ بنے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا دشمن فاروں کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔یہی حال محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا۔اور جو کچھ