تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 164
14- معززین و شرفاء نے قاتل کی اس ناجائز کاروائی کو نہایت ہی ظالمانہ فعل قرار دیا مگر اس دفعہ بھی پنجاب کے اخبارات نے جن میں احرار اور جماعت اسلامی کے ترجمان پیش پیش تھے اصل واقعہ شہادت کے متعلق بالکل غلط گراہ گن اور متعنا و اطلاعات شائع کیں حتی کہ تسنیم نے ۱۳ اکتو بربنانے کے پر پچہ میں یہ خبر وضع کی کہ رسول کریم کی شان میں گستاخی کرنے پر ایک قادیانی کو گولی کا نشانہ بنا دیا یہ اس کے بر فکری تسنیم مورخہ ۱۵ اکتوبر نشر ) میں ہی مجلس احرار را ولپنڈی کے سیکرٹری کی اطلاع چھپی کہ یرقتل روز نامہ تعمیر راولپنڈی کی اور اکتوبر کی شائع شدہ خبر کے مطابق ایک مکان کی وجہ سے جھگڑا ہونے پر ہوا ہے او پاکستان ٹائمز نے ۱۴۔اکتوبر نشانہ کی اشاعت میں یہ بتا یا کہ کبوتر بازی کا جھگڑا تھا جو قتل پر منتج ہوا ہے۔بھالانکہ قاتل نے واضح رنگ میں یہ اعتراف کیا تھا کہ میں نے ایک احمد ہی کو قتل کیا ہے کیونکہ علماء نے ہم کو یہی بتایا ہے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن اور واجب القتل ہیں۔سید نا حضر مصلح موعود کی رو سے حضرت مصلح موعود نے اس واقعہ شہادت پر بھی ۱۳ اخاء کو خطبہ دیا جس میں اس بات پر جماعت کو تبلیغ حق کا خصوصی ارشاد اظہار افسوس کیا کہ جب ہم میں قادیان سے کار ہجرت کر کے آئے تو میں نے جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا تھا کہ لوگ آج تمہاری تعریفیں کرتے ہیں حتی کہ اخبار زمیندائن تک میں احمدی جماعت کی بہادری کی تعرینیں ہو رہی ہیں لیکن ان عارضی تعریفوں پر مت بھاؤ اور یاد رکھو کہ تم ان حالات میں سے گزرنے پر مجبور ہو کہ جن حالات میں سے پہلے نبیوں کی جاتیں گذری ہیں تمہیں خون بہانے پڑیں گے تمہیں جانیں دینی پڑیں گی۔اس پر کچھ افراد اور جماعتوں نے کہا کہ آجکل جماعت کی بہت تعریف ہو رہی ہے۔اس وقت تو تبلیغ بالکل نہیں کرنی چاہئیے۔میں نے ان سے کہا کہ وہ دن آنے والے ہیں کہ یہی تعریف کرنے والے تمہیں گالیاں دیں گے اور تم اُس وقت کہو گے کہ آج ہماری بہت مخالفت ہے۔اس لئے ہمیں تبلیغ نہیں کرنی چاہئے۔گو ون تو تم تبلیغ سے اس لئے غافل ہو جاتے ہو کہ لوگ تمہاری تعریف کرتے ہیں اور کچھ دن تم تبلیغ سے اس لئے فاضل ہو جاتے ہو کہ لوگ تمہاری مخالفت کرتے ہیں۔پھر وہ دار کب آئے گا جب تم تعب بلیغ کرو گے ؟ ة النمل سے ر نومبر ۹۵ نشر میشه ( مضمون چوہدر ی کریم اللہ صاحب ظفر میلین اسلام سپین؟