تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 153
۴۹ نہ ندہ نظر آئے اور ایسا عنصر جھوٹ، دھوکے اور فریب سے ہرگز پر ہیز نہیں کرتا جو افسر شرافت اور انصاف اور پاکستان کی محبت سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ایسے موقع پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ خواہ ایسی رپورٹوں پر کارروائی نہ کریں مگر ایسے جھوٹوں کو کوئی سزا بھی نہ دیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ سوال انتظامی نہیں رہے گا بلکہ سیاسی ہو جائے گا اور انہیں اپنا دامن چھڑوانا مشکل ہو جائے گا پس ان کا انصاف نصف راستہ تک پھیل کر کھڑا ہو جاتا ہے یا اے مسلم لیگی حکومت کی طرف سے ملک دشمن عناصر اوکاڑہ اور اس کے ماحول کی آتشین فضا کی پشت پناہی کے خوفناک نتائے گناہ انار ار اکتوبر شاہ کے شروع میں رونما ہونے شروع ہو گئے جبکہ مغربی پاکستان میں ہر طرف جماعت احمدیہ کی مخالفت کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا اور خصوصا اوکاڑہ اور اس کے گردو نواح میں احمدیوں کے قتل عام کے علم گھلاو حفظ کئے جانے لگے چنانچہ افضل کے نامہ نگار نے مرکزی احمدیت میں یہ اطلاع ١٣٠٣٩ دی که یکم اکتوبر کو احراریوں نے بعض احمدیوں کا جب کہ وہ کسی چک کی طرف سجارہے تھے جلوس بنا کر ان کا تعاقب کیا۔سات افراد کے منہ پر سیاہی کی، ان پر مٹی اور کھڑ بھیان کا اور اسمیں دھنگے دیتے ہوئے اوکاڑہ ریلوے سٹیشن پر لے آئے چند پولیس والوں نے ان کو بچانا چاہا تو شرپسند شفر نے ان تانگوں پر بھی حملہ کر دیا جن میں احمدی اور پولیس کانسٹیبل سوار تھے۔اس کے بعد احراریوں نے شہر بھر میں جلوس نکالا۔احمدیوں کو گالیاں دیں اور پولیس والوں پہ احمدیوں کی پاسداری کا الزام لگا کر انہیں کو سا۔یہ سیلوس دیر تک مسجد کے سامنے ناچتا رہا۔اسی شام کو چوہدری غلام قادر صاحب نمبردار پریذیڈنٹ جاری کیہ اوکاڑہ اور شیخ غلام قادر صاحب پر احراریوں نے حملہ کیا اور ریلوے لائن کے نزدیک سخت پتھر او کیا جن سے دونوں احمدی مجروح ہو گئے۔بے" اس فتنہ انگیزی نے چند دنوں میں ہی کیا صورت پکڑ لی؟ اس کا نقشہ اوکاڑہ کے ایک غیر احمدی دوست جناب محمد عابد صاحب بعد الندھری نے انہی دنوں درج ذیل الفاظ میں کھینچا۔الفضل در جولائی ۱۹۵۰ ص ۴۱۳ الفضل ٦ اكتوبر ائر : ا