تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 151
لگ جائے گا کہ احمدی کیسے ہوتے ہیں۔بے شک وہ احمدی نہ ہوں لیکن انہیں یہ تو پتہ لگ جائے گا کہ احدیت کی تعلیم کیا ہے اور جب انہیں احمدیت کی تعلیم کا پتہ لگ جائے گا تو پھر اگر کوئی شخص احمدیوں کے خلاف ان کے کان بھرنے کی کوشش کرے گا تو وہ فورا کہ دیں گے کہ ہم بجانتے ہیں کہ احمدی ایسے نہیں ہیں۔لیکن اگر وہ احمدیت کی تعلیم سے واقف نہیں تو جس طرح کوئی ان کے کان بھرے گا اُن کے پیچھے لگ جائیں گے۔گویا تبلیغ کے ذریعہ ہمیں دو فائدے حاصل ہونگے اول جو لوگ صداقت کو قبول کرنے کی جرات رکھتے ہیں وہ صداقت کو قبول کر لیں گے اور جو صداقت کو قبول کرنے کی جرات نہیں رکھتے وہ ہمارے حالات سے واقفیت کی بناء پر کلمہ شیر کم کریں گے ---- دعاؤں سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے یا اے (۲) پاکستان میں ہمارے خلاف پروپیگینڈا کیا جاتا ہے اور مجلسوں میں لوگوں کو اکسایا جاتا ہے کہ وہ ہمارے آدمیوں کو قتل کر دیں، ہماری جائدادوں کو کوٹ لیں اور دوسرے لوگوں کو یہ تحریک کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مکانات پر نشان انگا لین تا قتل عام کے وقت انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے پیار سے پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے۔گورنمنٹ کا کام ان قائم کرنا ہے گورمنٹ کا کام اس قسم کے فتنوں کو دبانا ہے مگر وہ دیکھ رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔پولیس کے آدمی جاتے ہیں، اور وہ ان مجالس میں جا کر ڈائریاں لیتے ہیں لیکن وہ اس قسم کی باتوں کا ڈائریوں میں ذکر نہیں کرتے بعض جگہوں میں تو ڈائریاں کی ہی نہیں جانتیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ کی مقامی پولیس ولی سے ان کے ساتھ ہے اور بعض جگہ پولیس نے ڈائریاں کی ہیں لیکن ضلع حکام نے حکومت تک ان باتوں کو پہنچا یا نہیں۔ایک جلسہ میں ایک شخص نے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو احمدیوں کو قتل کرے۔ایک آدمی نے اُٹھ کر کھائیں حاضر ہوں۔پولیس نے ڈائری نہیں لکھی لیکن ایک مجسٹریٹ نے جو وہاں موجود تھا اپنی ڈائری میں یہ بات لکھ دی کہ میرے سامنے مقرر نے یہ سوال کیا کہ تم میں سے کون کون خلال فلان احمد یوبی کو قتل کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا میں اس کام کے لئے حاضر ہوں اور اپنا نام پیش کرتا ہوں جب پولیس کے افسروں سے پوچھا گیا کہ کیوں پولیس کی ڈائری میں یہ بات نہیں آئی تو انہوں نے ه الفضل در جولائی شار ص :