تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 137
۱۳۵ ہے۔ہمارے مشن اس وقت قریباً تمام ممالک میں ہیں لیکن روس میں ہم نے ایک دفعہ اپنا مبلغ بھیجا تو اسے سخت دُکھ دئے گئے اور آخر انہوں نے اپنے ملک سے باہر نکال دیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ کمیونزم میں یہب کی کوئی جگہ نہیں۔سوم :- اسلام کی بنیاد روحانی صفائی پر ہے لیکن کمیونزم یہ کہتی ہے کہ روح کوئی چیز نہیں اور یہ کہ دنیوی مسائل کو کلی طور پر مادیات کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے اس کا خیال ہے روحانیت کو پیش کرنے سے غرباء کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کے حقوق تلف ہوتے ہیں۔چهارم :- اسلام کی بنیا د نبوت پر ہے لیکن کمیونزم کے نزدیک سارے نبی نعوذ باللہ جھوٹے اور مفتری تھے بلکہ مذہب کے بانی ان کے نزدیک -- امراء کے ایجنٹ تھے تا کہ امراء ترقی کرتے جائیں اور غرباء ہلاک ہوتے جائیں۔پنجم :- اسلام کی بنیاد کلام الہی پر ہے لیکن کمیونزم کے نزدیک یہ کوئی چیز نہیں۔ششم :- اسلام کی بیا ولبعث بعد الموت پر ہے لیکن کمیونزیم اس کے بالکل خلاف ہے گویا کمیونزم ہمارے پہنچ ارکان اسلام کے بہی خلاف ہے۔اور جب اس کا اسلام کے ساتھ اس قدر بنیادی اختلاف ہے تو ایک باغیرت اور سمجھدار مسلمان کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایک مسلمان بھی ہوں اور کمیونسٹ بھی۔جماعت کے دوستوں کے علاوہ جلسہ میں تین سو کے قریب غیر احمدی معززین بھی موجود تھے جو بے حد متاثر ہوئے اور صدر جلسہ نے بھی اپنے صدارتی ریمارکس میں تقریر کی بہت تعریف کی بیٹے جماعت احمدیہ کراچی نے انہی دنوں وکٹوریہ روڈ میگزین لیں کراچی میں ایک خاص خطبہ جمعہ میں ایک شاندار دو منزلہ مسجد قریباً ایک لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی تھی۔اس مسجد کی تیاری اور تعمیر کے انچارج شیخ عبد الحق صاحب ایس ڈی اوتھے جنہوں نے ہایت محنت اور اخلاص کے ساتھ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔تے حضرت امیر المؤمنين خليفة السيح الثاني الصلح الموعوون تبوک ۱۳۳۹ / ستمبر نشانہ کو اس مسجد میں خطبه جمعه ارشاد فرمایا جس کے آغاز میں حضور نے کراچی کی مخلص جماعت کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ: له الفضل ۱۳ر تبوک ه۳۲۹ ا حت له الفضل ۲۲ تبوک ۱۳۳۹