تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 138 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 138

سب سے پہلے تو میں جماعت کے دوستوں کو اس بات کی مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے یہاں مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی ایکس نے دو دفعہ یہاں تقریر کی ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ دونوں دفعہ ایک ہی ہال میں تقریر ہوئی تھی یا الگ الگ ہال تھے ہر حال اُوپر کے بر آمد وں اور نیچے کے برآمدوں کو ملا کر یہ مسجد ان ہالوں سے بڑی نظر آتی ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے کوئی جگہ بناتا ہے تو آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس کی ترقی کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وقتاً فوقتاً اس قسیم کے الہام ہوتے رہتے تھے کہ آپ اپنے مکانات کو وسیع کریں تاکہ آنے والے لوگ وہاں آکر رہیں۔چنا نچہ ان الہامات میں سے ایک یہ بھی الہام تھا کہ وسیع مكانك اپنے مکان کو وسیع کر ویکی نمیشہ ہی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں کہ اپنی حیثیت کے مطابق ان کو سجدیں بناتے رہنا چاہیئے لیکن افسوس ہے کہ جماعت ہمیشہ ہی اپنی توفیق سے زیادہ بڑی جگہ کی تلاش میں رہتی ہے۔یہ سجد بھی غالبا نہ منیتی اگر آج سے آٹھ دس سال پہلے مجھے متواتر یہاں آنے کا موقع نہ ملتا اور جماعت پر یہ زور دینے کا موقع نہ ملتا کہ جس طرح بھی ہو زمین خرید لوچنانچہ میرے ایک ایسے ہی سفر کے زمانہ میں یہ زمین دیکھی گئی اس وقت بھی بعض مقامی دوستوں کی تجویز تھی کہ اس سے بڑی جگہ لینی چاہیئے مگر میں نے کہا کہ زمین جو بھی ملتی ہے لے لو اور بڑی کا انتظار نہ کر وایسا نہ ہو کہ یہ بھی ہاتھ سے جاتی رہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ جگہ آباد ہے اور یہاں ایک شاندار مسجد بنی ہوئی ہے۔مجھے یاد ہے کہ جماعت کا ایک حصہ اس کی تائید میں تھا اور دوسرا حصہ اس بات کی تائید میں تھا کہ کوئی اور بڑی جگہ تلاش کی جائے مر اللہ تعالیٰ نے جماعت پر فضل کیا اور ان کو ہدایت دی کہ وہ چھوٹی چیز پر قناعت کریں تا کہ اللہ تعالے اس کے بعد ان کے لئے بڑی چیز کے سامان پیدا کرے۔دنیا میں کوئی مسجد ایسی نہیں بن سکتی جس میں زیادہ سے زیادہ افراد جو ممکن ہوں آسکیں۔خانہ کعبہ کی مسجد کے برابر شاید کوئی مسجد نہیں لیکن کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جب خانہ کعبہ میں بھی نمازی سمانہیں سکتے اور بازاروں اور دکانوں پر کھڑے ہو کر لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مسجد نبوی جو مدینہ منورہ کی ہے اس کا بھی یہی حال ہے کہ اس میں بھی بعض اوقات نمازی پوری طرح سما نہیں سکتے پس یہ خیال غلط ہے کہ ہم آئندہ کی تمام ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی مسجد بنائیں اور جب تک ان ضرورتوں کے مطابق مسجد نہ بن سکے ہم اپنی نماز کے لئے کوئی انتظام نہ کریں۔یں تو سمجھتا ہوں یہ اسی مسجد کی برکت ہے کہ آج سے چار سال پہلے موجودہ نمازیوں سے پانچواں حصہ بھی