تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 127
۱۲۶ سال بھی دینی و جماعتی اغراض کے لئے کوئٹہ اور سندھ کا سفر کیا حضور معہ افراد قافله در احسان (جون) کو لاہور سے عازم کوئٹہ ہوئے جہاں آپ دو ماہ قیام فرما ر ہے۔پھر ظہور (اگست) کو سندھ روانہ ہوئے ہے اور اس ظہور (اگست) کو سندھ اسٹیٹس کا دورہ ختم کر کے یکم تبوک (ستمبر) کو حیدرآباد اور۔تبوک (ستمبر کو کراچی میں رونق افروز ہوئے اور سیح موعود کے دلی منتوں اور دیگر بے شمار بندگان الہی کو اپنے علوم ظاہری و باطنی سے فیضیاب کر کے ۲۱ تبوک (ستمبر) کو لاہور تشریف لائے کیے یوں تو اس اللہی اور مبارک سفر کا ایک ایک دن برکات سماوی کے نزول کا باعث تھا مگر اسکے دوران بعض ایسی خاص علمی تقریبات کا انعقاد بھی ہوا جس نے اس سفر کی افادیت کو مستقل اور دائمی حیثیت دے دی جن کا ذکر آئندہ سطور میں کیا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے سفر کوئٹہ کی بڑی غرض یہ تھی کہ ایک تو کوئٹہ میں درس القرآن آپ رمضان کے روزے زیادہ سوات سے رکھ سکیں دوسرے قرآن کریم کے چند پاروں کے نوٹ مجلس میں بیٹھ کر لکھوا دیں تاکہ احباب جماعت بھی فائدہ اٹھائیں او پھر یہ نوٹ صاف ہونے کے بعد ان دوستوں کو بھجوا دئیے جائیں جو انگریزی ترجمہ قرآن کو ایڈٹ کر رہے تھے کیونکہ پچھلا درس ختم ہو چکا تھا۔پندرہ پارے انگریزی تفسیر قرآن کے شائع ہو چکے تھے او مزید مضمون کا تقاضا کیا جارہا تھا۔چنانچہ یکم رمضان المبارک ۱۳۶۷ھ مطابق ۷ ارجون نشار کو ایک لمبی دعا کے بعد سورہ مریم سے درس قرآن کریم کا آغاز کیا جو وجع المفاصل اور در دلفرس کے شدید حملہ کے باوجو دبارہ روز تک مسلسل جاری رہا اور رمضان المبارک کے اختتام پر بھی درس دیائیشہ ادریس کے علاوہ حضور نے سات خطبات دیئے اور اماءاللہ جلسہ عام سے حقیقت افروز خطاب مجلس خدام الاحمدیہ کوئٹہ اور جنہ اما الد کوٹ کے اجتماعات میں بھی تقریر کی نیز یکم خطور (اگست) کو ایک جلسہ عام سے بھی خطاب فرمایا جس میں سول له تاسه الفضل و احسان ۲۷ ظهور ، ۱۳ رتبوک ، ۲۲ تبوک ۲۹ : شے سفر کوئٹہ کے ضروری کو الفت مولانامحمد یعقوب صاحب طاہر نے الفضل ۲۷ طور ۱۳۹۶ / اگست ۹۵ائر میں شائع کر دئے تھے جن سے مخلصین جماعت احمدیہ کوئٹہ کی اپنے امام ہمام سے والہانہ عقیدت و الفت کا بھی پتہ چلتا ہے ؟ له الفضل ۲۴ احسان ۱۳۳۹ اصلا : افضل ۲۷ ظهور ۱۳۹۵ +