تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 122 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 122

حیران ہوئے کہ اتنی بڑی قربانی کرنے والے اور آگے بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والے کے متعلق رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے یہ کس طرح فرما دیا کہ اگر کسی نے اس دنیا کے پردہ پر کوئی دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اسے دیکھ لے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے کئی لوگوں کو اس قسم کی باتیں کرتے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے یہ کیا فرما دیا اورمیں نے سمجھا کہ مکن ہے اس سے بعض لوگوں کو ٹھوکر لئے چنا نچہ میں نے قسم کھائی کہ میں اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک میں اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔چنانچہ وہ کہتے ہی میں اس کے ساتھ ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ لڑتے لڑتے زخمی ہوا اور اسے لوگوں نے اٹھا کر ایک طرف لٹا دیا۔وہ درد کی شدت کی وجہ سے کراہتا تھا اور پہنچیں مارتا تھا صحابہ اس کے پاس پہنچتے اور کہتے کہ ابشر بالجنة " تجھے جنت کی خوشخبری ہو۔اس پر وہ انہیں جواب میں کہتا آبشرُونِ بِالنَّارِ مجھے جنت کی نہیں دوزخ کی خیر دو اور پھر اس نے بتایا کہ میں آج اسلام کی خاطر نہیں لڑا بلکہ اسلئے لڑا تھا کہ میرا ان لوگوں کے ساتھ کوئی پرانا ابض تھا۔آخر وہ صحابی کہتے ہیں اس نے زمین میں اپنا نیزہ گاڑا اور پیٹ کا دباؤ ڈال کر خود کشی کرلی۔جب وہ مرگیا تو وہ صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے تو انہوں نے بلند آواز سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلے اللّہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔آپ نے بھی جواب میں فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کا رسول ہوں۔پھر آپؐ نے فرمایا تم نے یہ بات کیوں کی ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ آپ نے فلاں شخص کے متعلق یہ بات کہی تھی اس پر بعض صحابہ کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ اتنے بڑے نیک انسان کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ دیا ہے مگر میں نے کہا خدا کے رسول کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی اور میں نے قسم کھائی کہ میں اسے چھوڑوں گا نہیں جب تک میں اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔چنانچہ میں اس کے ساتھ رہا اور آخر وہ خود کشی کر کے مر گیا۔تو بے دین لوگ بھی ملک کی خاطر اور حمیت کی خاطر اور جاہلیت کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں کیا کرتے ہیں۔پس جان اتنی قیمتی چیز نہیں کہ اسے اس طرح سنبھال سنبھال کر رکھا جائے لیکن جب سینکڑوں سال کی غلامی کے بعد کسی کو آزادی ملے اور سینکڑوں سال کے بعد کسی کو اس بات کے آنیار نظر آنے لگیں کہ خدا تعالیٰ پھر اسلام کی سربلندی کے مواقع بہم پہنچا رہا ہے تو اس وقت بھی اپنے حالات میں تغیر پیدا نہ کرنا اور غلامی کے احساسات کو قائم رکھن بڑی