تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 121
بہادری اور جرأت کا حال سب کو معلوم تھا مگر ایک لڑائی میں جب کفار کا ایک جرنیل مقابلہ کے لئے نکلا اور اس نے چلینج کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مقابلہ کے لئے نکلیں تو صحابہ آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے کہ آپ کی حفاظت کریں حالانکہ آپ ان سے زیادہ بہادر تھے۔چنانچہ آپ نے فرمایا رستہ چھوڑ دو اور اسے آنے دو۔جب وہ آگے بڑھا اور اس نے حملہ کر دیا تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اس کے وار کو روک کر اپنا نیزہ لمبا کر کے محض اس کے جسم کو چھوا اور وہ اسی وقت واپس لوٹ گیا۔لوگوں نے اس ے کہاکہ تم تو اتنے بہادر ھے مگر آج ہم نے کیا کیا کہ یہ ادھر تمہارے جسم سے چھوا اور ادھر تم واپس لوٹ آئے۔اس نے کہا تمہیں حقیقت نہیں معلوم تمہیں میں نظر آرہا ہے کہ وہ نیزہ میرے جسم سے چھوا ہے تم مجھے سے پوچھو جس کے نیزہ لگا ہے مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا جہان کی ساری آگ میرے جسم میں بھر دی گئی ہے۔یہ ایک معجزہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا مگر ہر حال اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی سے نفرت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ کو لڑنا پڑا۔پس یہ خیال کرنا کہ ہم محبت اور پیار سے تبلیغ کرنے والے ہیں ہمارے ساتھ کسی نے کیا لڑنا ہے یا یہ کہ ہمارا ملک صلح پسند ہے اس پر کسی نے کیا حملہ کرنا ہے محض جہالت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر وقت اپنے آپ کو تیار رکھیں اور فوجی ٹرینگ حاصل کریں تا وقت پر اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں۔پیں جماعت کو اب یہ فیصلہ کر کے یہاں سے جانا چاہیئے کہ وہ اپنے سارے نوجوانوں کو نکال کر فوجی ٹریننگ کے لئے بھجوائے گی۔۔۔۔تاکہ جب کبھی جہاد کا موقع آئے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق کہ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَعِرْضِهِ فَهُوَ شھید ہمیں اپنے ملک، اپنے اموال اور اپنی عزتوں کی حفاظت کے لئے قربانی کرنی پڑے تو ہم اس میدان میں بھی سب سے بہتر نمونہ دکھانے والے ہوں اور دوسرے مسلمان ہمیں یہ نہ کر سکیں کہ یہ مولوی ملک کی حفاظت کے وقت کچے ثابت ہوئے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔کافر بھی بڑی بڑی قربانیاں کیا کرتے ہیں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ ایک لڑائی کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے ایک شخص کفار پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایسی بے جگری کے ساتھ لڑائی کی اور اس طرح کفار کو تہ تیغ کرنا شروع کیا کہ مسلمان اس کو دیکھ دیکھ کر بے اختیار کہتے کہ خدا اس شخص کی جزائے خیر دے یہ اسلام کی کتنی بڑی خدمت سر انجام دے رہا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی نے اس دنیا کے پر وہ پر کوئی روزنی دیکھنا ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تو صحار سخت