تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 117
اس کتاب میں حضور نے ایک طرف مسلم لیگی حکومت کو بھی زیر دست انتباہ کیا کہ اگر اس نے غیر طبیعی یا غیر شرعی تجاویہ کی طرف توجہ کی توہ کمیونزم کے حملہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت کھو بیٹھے گی دوسری طرف بڑے زمینداروں کو بھی توجہ دلائی کہ :۔اسلام کی بنیا د اخوت اور رحم پر ہے۔ان کو اپنے بھائیوں کی مشکلات کے حل کرنے ہیں سیاسی لیڈروں سے زیادہ کو شاں ہونا چاہئیے۔اگر وہ غریب زمیندار کی مددخود خوشی سے کریں گے اور ایسے قوانین کے بنانے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گے جن سے ظلم دور ہو جائے اور ان کا غریب بھائی آرام سے زندگی بسر کرے تو یہ بات دین اور دنیا دونوں میں ان کے لئے عربت اور آرام کا موجب ہوگی اور وہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو جا سکیں گے ورنہ وہ سمجھ لیں کہ اگر حکومت اسلامی احکام کے ادب سے کوئی جابرانہ قانون نہ بھی بنائے تو بھی خدائی عذاب سے اُن کو دو چار ہونا پڑے گا اور کوئی چیز بھی ان کو نہ بچا سکے گی یہ تھے حضرت مصلح موعود کی اس معرکۃ الآراء تصنیف کی بھاری خصوصیت یہ تھی کہ اس میں آپ نے مسلمانان عالم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کر کے اتمام محبت کر دی کہ یہ اس وقت کمیونزم کا خوف دنیا پر طاری ہو رہا ہے لیکن دیکھتا ہوں کہ وہ بڑی بڑی حکومتیں بھی جو اس وقت کمیونزم کا مقابلہ کرنے کا دعوی کر رہی ہیں اُن کے دل اندر سے کھوکھلے ہو رہے ہیں۔اردو زبان کا یہ مشہور مقولہ ہے کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو یعنی جب دنیا میں لوگ کثرت سے ایک آواز اُٹھانے لگتے ہیں تو قلوب مرعوب ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ الہی فیصلہ ہے اور اسی طرح ہو کہ رہے گا حالانکہ وہ آواز محض ایک رو ہوتی ہے جیسے بہاؤ کی طرف پانی بہتا ہے لیکن ہمیشہ بہاؤ کی طرف پانی بہنے دینا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی جن لوگوں نے یہ کہا کہ پانی بہاؤ کی طرف بہا کرتا ہے اُن کے ملک اُجڑتے رہے لیکن جنہوں نے یہ کہا کہ بے شک پانی بہاؤ کی طرف بہتا ہے۔لیکن بہاؤ کا بنا نا بھی خدا تعالیٰ نے انسان کے اختیار میں رکھا ہے آؤ ہم نئے بہاؤ بنائیں انہوں نے ہریں بنائیں اور نالے بنائے اور ویران ملکوں کو آباد کر دیا پس کوئی شخص میری بات سُنے یا نہ سنے ہیں یہ صاف کہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں کمیونزم کے خون کی وجہ سے کوئی بات نہیں کہنی چاہئیے۔اگر به اسلام اور ملکیت زمین ص ۲۶۲ ، ۲۶۳ ہے جب