تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 104 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 104

١٠٣ میرے دل میں تڑپ ہے کہ کشمیر آزاد ہو مرزا بشیر الدین کا بیان لاہور را ارمٹی۔جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیرالدین محمود نے حسب ذیل بیان فرض اشاعت جاری کیا ہے :۔حکومت پاکستان کے محکمہ بغیر پورٹ فولیو نے ، ارمئی شہر کو ایک اعلان شائع کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کے لڑنے کے لئے ایک پالیسی طے کر لی ہے اور اس کے اصول انہوں نے شائع کر دئے ہیں اور مختلف کاموں کے لئے سب کمیٹیاں بنادی ہیں۔چنانچہ اعلان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سب کمیٹی پیلیسائٹ اڈوائزری کمیٹی کے نام سے مقرر کی گئی ہے۔دوسری ریفیوجی در پیلی ٹیشن او ائندی کیٹی اور تیسری پلیٹی پالیسی کیٹی کے نام سے۔ان تینوں کمیٹیوں کی شات ری اس طرح کی گئی ہے کہ پلی کمیٹی میں چار مہر پاکستان پبلک کے نمائندے یا آزاد کشمیر گورمنٹ کے نمائندے ہیں اور تین مسلم کا نفرنس کے نمائند سے ہیں۔دوسری میں تو مر ہیں جن میں سے ڈو آزاد کشمیر گورمنٹ کی طرف سے ہیں اور مسلم کا نفرنس کے نمائندے ہیں اور پانچ پاکستانی حکومت یا پاکستان پبلک کے نمائندے ہیں۔تیسری س کمیٹی یعنی پروپیگنڈا کی کمیٹی میں سات ممبر ہوں گے جن میں سے کچھ پاکستانی حکومت کے نمائندے ہوں گے اور ایک مسلم کانفرنس کانمائندہ ہو گا۔اس اعلان سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کشمیر کی جد وجہد کے خاتمہ کا زمانہ اب قریب آرہا ہے اور یہ جد و جہد اپنے آخری دور میں داخل ہونیوالی ہے۔مجھے چونکہ قدر تار اس نئی جد و جہد سے پچسپی ہے جو اس سابقہ مسلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کا ئیں صدر رہا ہوں۔مجھے خصوصیت سے یہ تڑپ ہے سر کشمیر کے مسلمان آزاد ہوں اور اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں سے مل کر اسلام کی ترقی کی جد و جہدیں نمایاں کام کریں۔اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے کیں تمام ان لوگوں سے جو کشمیر کے کام سے پوسی رکھتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ اب جبکہ یہ آزادی کی تحریک آخری ادوار سے گزر رہی ہے اپنی سب طاقتیں اس کی کامیابی کے حصول کے لئے لگا دیں اور ایسی باتوں کو ترک کر دیں جو اس مقصد کے حصول میں روک ثابت ہو سکتی ہوں۔یہ صاف اور سیدھی بات ہے کہ جو اہمیت مقصد کو حاصل ہوتی ہے ذریعہ کو حاصل نہیں ہوتی ہم خیال لوگوں کے ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں مگر مقصد الگ الگ نہیں ہو سکتے۔پیڑھی ظاہرام ہے کہ ایک متحد خیال کو مختلف تدابیر پر قربان نہیں