تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 103
흐 ١٠٢ رنگ میں لاہور سی ہوگا کیونکہ جماعت کا تنظیمی مرکز جس جگہ ہو ضروری نہیں کہ دوسرے لوگ جو جماعت سے لچسپی رکھتے ہیں وہ بھی اپنی توجہ کا مرکز سے بنا لیں۔لوگ قدرتی طور پر سہل ترین طریق کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں اپنے ذاتی کاموں کے لئے لاہور آنا پڑتا ہے جب وہ لاہور آتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کی توجہ ان اداروں اور تحریکوں کی طرف بھی ہوتی ہے جن کے مرکز یا مرکزوں کے ظل ا لاہور میں موجود ہیں۔گویا وہ ایک تیر سے دو شکار کر لیتے ہیں۔وہ یہاں آکر اپنے ضروری کام بھی کرتے ہیں اور ایسے ادارے اور تحریک سے واقفیت بھی حاصل کر لیتے ہیں جو اُن کی توجہ کا مرکز بن رہا ہو۔پس جہاں تک لاہور کو سیاسی حیثیت حاصل ہے ہم اس جماعت کو بعد میں بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔اگر لاہور میں جو مشکلات ہمیں نہیں آرہی ہیں وہ دور ہو جائیں اور ہمیں ایسی جگہیں مل جائیں جہاں ہم مرکز کا ایک حصہ رکھ سکیں تو مرکز بھی مقامی جماعت کے ان کاموں میں محمد ثابت ہوگا جس کے کرنیکی دفترداری اس پر ڈال دی گئی ہے" سے ارمنی ۱۹۴۹ مر کو حکومت پاکستان کی طرف سے حضر مصلح موعود کا ایک اہم بیان کشمیر میں استصواب رائے کے لئے تین سب کمیٹیوں کشمیر میں استصواب رائے کے سلسلہ میں کسی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔(PUBLICITE ADVISORY COMMITTEE ) ا۔پیلیسائٹ اڈوائزری کمیٹی" ۲ ریفیوجی ری سہیلی ٹیشن اڈوائزری کمیٹی" RE-HABLITATION (REFUGEE ADVISORY COMMITTEE ) (PUBLICITY COMMITTEE ) POLICY پالیسی پالیسی کمیٹی۔سرکاری اعلامیہ میں وضاحت کی گئی کہ ہر ایک کمیٹی میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں اور عوام کے نمائندہ عمر کتنی تعداد میں ہوں گے چونکہ یہ نئی جدوجہد بھی تحریک آزادی کشمیر کے اسی سلسلہ کی لازمی کڑی تھی جس کا آغاز ۱۹۳۷ء میں سید نا اصلح الموعود کی صدارت و قیادت میں ہوا تھا اس لئے حضور کو قدرنا اس اعلان پر بے انتہاء خوشی ہوئی اور آپ نے اس کا نہایت دلچسپی سے مطالعہ کرنے کے بعد ایک اہم بیان دیا جس کا متن اخبار انقلاب میں حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوا :- الفضل ۲۱ ظهور ۱۳۳۸۵ ص۴۷۳