تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 102 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 102

در ماه شهادت ۱۳۲ کو فضیل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستانی سائنسدانوں کو نی صحت میں میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں حضرت مصلح موعود نے پاکستانی سائنسدانوں کو نصیحت فرمائی کہ انہیں استقلال کے ساتھ اپنی جد و جہد جاری رکھنی چاہیئے۔اخبار انقلاب ۱۴ اپریل ۱۹۴۹ء میں اس تقریرہ کا خلاصہ درج ذیل لفظوں میں چھپا :- " حضرت مرز البشیر الدین محمود احمد نے کہا پاکستان کے سائنسدانوں کو اس بات پر حوصلہ نہیں ہارتا چاہیے کہ ان کے پاس نہ مناسب تعداد میں آیات ہیں نہ سکالم۔اگر تم میں رسول اکرم مسلم کے پیروؤں کا جوش موجود ہے تو جس طرح اسلام ایک چھوٹی سی جگہ سے نکلا اور دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا اسی طرح تمہارے لئے یہ بات مشکل نہیں ہونی چاہیئے کہ سائنس کی دنیا میں اسی طرح کامیابی حاصل کرو نے 66 حضرت مصلح موجود نے اور ہجرت جماعت احمدیہ لاہور کی تلی تعلیمی ذمہ داریاں کو بذریعہ خطبہ جمعہ جماعت احمدیہ لاہور کی تبلیغی تعلیمی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ فرمایا :- " اگر لاہور کی جماعت کمزور ہوگی، اگر لاہور کی جماعت اپنے مقام کو جو اس کا جائز حق ہے حاصل نہ کرے گی تو اُس کا اثر صوبہ کی دوسری جماعتوں پر بھی مزور پڑے گا۔اور وہ تبلیغ جس کے رستے اب خدا تعالیٰ نے کھول دئے ہیں اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے جو مواقع ہمیں میسر آپکے نہیں انہیں زبردست دھکا لگے گا جس کا ازالہ آسانی سے نہیں ہو سکے گا لیکن لاہور کی جماعت اگر اخلاص سے کام لے گی اور اپنے فرض منصبی کو مجھے گی تو ہماری تبلیغ اور بھی وسیع ہو جائے گی اور جماعت يَوْمًا فَ يَوما بڑھتی چلی جائے گی۔اگر لاہور کی جماعت لاہور میں اپنے اثر کو اتنا نمایاں اور ظاہر ر دے کر شو کو بھی تسلیم کرنا پڑے کہ جماعت احمدیہ نے اپنا ایک نقش قائم کر دیا ہے تو اسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ صوبہ کے باقی اضلاع ، شہروں اور دیہات میں احمدیت اس سے زیادہ سرعت کے ساتھ پھیلنے لگ جائے گی جس سرعت سے وہ اب پھیل رہی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق تین چار ماہ تک ہم ربوہ میں جا بسے اور ایسی سہولتیں ہمیں حاصل ہوگئیں کہ اسے ہم مرکز بنالیں تو پھر جماعت کا تنظیمی مرکز تو بے شک ربوہ ہی ہو گا لیکن یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس کا سیاسی مرکز ایک ه انقلاب ۱۴ اپریل ۱۹۴۹ در صف ہے