تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 95
۹۴ اور ان کی قدریں بدل گئیں لیکن ہم موقد ہیں مشرک نہیں بلکہ ہمیں تو ان موقدوں پر افسوس آتا ہے جو توحید پر عمل کرتے تھے لیکن اب ان کے نمائندے قبروں پر جاتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں۔دنیا میں جو لوگ اچھے کام کر جاتے ہیں ان کی قبروں پر جانا اور ان کے لئے دعائیں کرنا ہی ان کے لئے پھول ہیں گلاب کے پھول اُن کے کام نہیں آتے عقیدت کے پھول ان کے کام آتے ہیں۔اور یہ صحیح ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے ہیں ان کے مزاروں پیر دعا کرنا لبسا اوقات بہت بڑی برکتوں کا موجب ہو جاتا ہے۔ان سے مانگنا جائز نہیں ہاں ان کی قربانی یاد دلا کرخدا تعالیٰ سے مانگنا چاہئے جیسے حضرت عمر کے زمانہ میں قحط پڑا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم آپ کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا مانگا کرتے تھے اب وہ تو ہمارے پاس نہیں ہیں ان کے چا عباس کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اس قحط کو دور فرما جیسے لوگ کہتے ہیں بچوں کا صدقہ اسی طرح خدا تعالیٰ سے بھی اس کے پیاروں کا واسطہ دے کر یا لگنا جائز ہے۔لیکن سمجھتا ہوں کہ ماریشس اس بات کا مستحق تھا کہ اس میں کسی صحابی یا کسی ایسے تابعی کی جس کا زمانہ حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کے قریب پہنچتا ہو تب ہوتا وہ اس کے مزار پر خدا تعالیٰ اسے دعا مانگیں میں نے صحابی یا تابعی اس لئے کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ حافظ صاحب مرحوم صحابی تھے یا نہیں جب سے میں انہیں دیکھتا رہا ہوں وہ حضرت خلیفہ اسی اول کا زمانہ تھا۔اور اگر میرے دیکھنے پر اسکی بنیاد ہو تو وہ تابعی تھے " یں دوسرے نوجوانوں کو بھی اس طرف تو ہمہ دلاتا ہوں کہ احمدیت کی ترقی بغیر قربانی اور بغیر وقف کے نہیں ہو سکتی۔انہیں بھی اس چیز کا احساس ہونا چاہیئے سینکڑوں ہیں جنہوں نے اپنے آپکو خدمت دین کے لئے وقف کیا مگر سینکڑوں انتظار کرنے والے بھی آگے آئیں تا ان کے نام خداتعالی کے رجسٹر میں لکھے جائیں یا لے کا کھا ان جلیل القدر صحابہ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ بھی انتقال کر گئے :- ۱ - شیخ عمر نبش صاحب جنگوی (بیعت منه ، وفات ، ار تبلیغ ها بعمر ۱۲ سال که ه روزنامه الفضل ۱۲ تبلیغ ۱۳۳۲۹۵ / ۱۲ فروری ۴۱۹۵ ص سه روز نامه الفضل ۲۳ تبلیغ ۲۳/۸۳۲۵۵ فروری ۱۹۳۵ ܀