تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 92 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 92

91 حضرت حافظ صاحب کو صحابہ حضرت مسیح موعود میں منفرد خصوصیت حاصل ہے کہ آپ اکیس برس تک بارشیں ہیں جہاد تبلیغ میں سرگرم عمل رہے۔آپ ۲۷ جولائی شیر کو قادیان سے مالشیس پہنچے اور ۲۷ فتح ه۱۳۲۰ دسمبر ۹۲ ئہ کو ماریں ہی میں انتقال فرما گئے اور سینٹ پیری میں سپرد خاک کئے گئے لیے آپ کی وفات کی اطلاع پر حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے ۳ - دسمبر ئلہ کو ہو خطبہ دیا اس میں آپ کی وفات کو نشان قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ " حافظ جمال احمد صاحب کی وفات اپنے اندر ایک نشان رکھتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب وہ ماریشس بھیجے گئے تو اس وقت جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی اتنی کمزور کہ ہم کسی مبلغ کی آمد ورفت کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہیں نے تحریک کی کہ کوئی دوست اس ملک میں بجائیں۔اس پر حافظ صاحب مرحوم نے خود اپنے آپ کو پیش کیا یا کسی اور دوست نے تحریر کیا کہ حافظ جمال احمد تصاحب کو وہاں بھیج دیا جائے۔چونکہ پہلے وہاں صوفی غلام محمد صاحب مبلغ تھے اور وہ حافظ تھے اس لئے احباب جماعت نے وہاں ایک حافظ کے جانے کو ہی پسند کیا۔گو صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے تھے اور ان کی عربی کی لیاقت بھی بہت زیادہ تھی اور حافظ جمال احمد صاحب غالباً مولوی فاضل نہیں تھے ہاں عربی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی اور قرآن کریم حفظ کیا ہوا تھا لیکن ہر حال انہیں صوفی صاحب کی جگہ مبلغ بنا کر باریشی بھیج دیا گیا۔حافظ صاحب مرحوم کی شادی مولوی فتح الدین صاحب کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی جنہوں نے شروع شروع میں نجابی میں کام لکھے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے سے پہلے کے تعلق رکھنے والے دوستوں میں سے تھے۔ان کے سسرال کے حالات کچھ ایسے تھے کہ انکے بعد ان کے بیوی بچوں کا انتظام مشکل تھا اس لئے انہوں نے مجھے تحریک کی کہ انہیں بیوی بچے ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے۔چونکہ اس وقت سلسلہ کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ پیسے پیسے کا خرچ بو تھل معلوم ہوتا تھا اور ادھر حافظ صاحب مرحوم کی حالت ایسی تھی کہ انہیں اپنے بیوی بچے اپنے پیچھے رکھنے مشکل تھے میں نے کہا کہ میں آپ کو بیوی بچے ساتھ لے جانے کی اجازت دیتا ہوں مگر اس لے حضرت حافظ صاحب کی آخری رپورٹ (جس میں مخالفت احمدیت کے لئے تائیدی نشانات اور اپنی بیماری کا ذکر ہے، الفضل ۱۱- امان هر ۲۹ د مارچ اور میں درج شدہ ہے ؟