تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 89 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 89

^^ اور خلاصہ نکالنے میں ماہر تھے اور اسی لئے حضرت مصلح موعود نے انہیں اپنے سامنے اپیلیں پیش کرنے کا فریضہ بھی سونپ رکھا تھا غیر احمدی اور ہند و وکیل بھی آپ کے مداح تھے۔دورانِ ملازمت جہاں جہاں گئے سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ میں سرگرم رہے اور کئی لوگوں کی ہدایت کا موجب بنے نظام الوقیت سے بھی وابستہ تھے اور تحریک جدید کے دفتر اول کے مجاہدوں میں سے تھے۔۔سیالکوٹ میں وفات پائی اور قبرستان سائیں مونگاولی میں بطور امانت دفن کئے گئے بیٹے ته (ولادت ؟ میاں نورمحمد صاحب کھوکھر امیر اور ضلع ملتان است علم بیعت به ۵ در وفات ۲۸ - اخاء هو العمر ۷۴ سال ) میاں نوراحمد صاحب مدرس مدرسہ امدادی بستی وریام ملا نہ ڈاک خانہ ڈوب کلاں تحصیل شور کوٹ ضلع جھنگ جن کا ذکر حضرت مہدی معہود نے حقیقۃ الوحی کے نشان ۱۳ میں فرمایا ہے آپ کے چھوٹے بھائی تھے میاں نوراحمد صاحب نے آپ کو تبلیغ بھی کی اور حق پانے کے لئے استخارہ بھی بتایا اور ایک حمائل شریف مترجم حضرت شاہ رفیع الدین بھی وھی کہ اسے بلا ناغہ پڑھیں اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے رہیں۔تلاوت قرآن مجید اور استخارہ کے نتیجہ میں آپ کو پروانہ وار بیعت اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شوق پیدا ہو گیا اور آپ مولوی محمد فاضل صاحب احمدی کو ساتھ لے کر قادیان پہنچے۔چار پانچ روز مسجد مبارک میں حضرت اقدس کے ساتھ نماز با جماعت: دا کی ۱۵ را گست عنہ کو بوقت عصر حضور تشریف لائے تو آپ بیعت کے لئے آگے بڑھے بیعت کے بعد حضور نے ان سے ملتان کے کو الف دریافت فرمائے اور پوچھا کہ اس طرف سلسلہ کی مخالفت کثرت سے نہیں۔ے مفصل حالات کے لئے ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد اول مثلا تا شا ملقہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ہے ايضا الفضل ٢٠ نومبر ۱۹۳۹ ص۵۲ : الرحمت ۱۲۸ نومبر ۱۹۹۹ ص : ه والد ماجد مولوی غلام احمد صاحب ارشد سالی درویش قادیان به سه الحکم ۲۲ اگست سنشائه آن روزنامه الفضل يكم فتح ۱۳۲۸ به