تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 177
۱۷۲ لیکن یہاں نہ آسکا اور امتہ الحی مرحومہ فوت ہو گئیں۔اور جب مجھے بھیرہ آنے کا موقع ملا تو ان کی وفات پر تھیں سال گزر رہے ہیں۔پس جو نبی یکی بھیرہ میں داخل ہوا وہ باتیں مجھے یاد آگئیں کہ میں نے امتہ الحی مرحومہ سے ان کے ابا کا وطن دکھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی مشقت تھی کہ جب تک وہ زندہ رہیں مجھے یہاں آنے کا موقع نہ ملا اور جب مجھے یہاں آنے کا موقع ملا تو بھیرے کی بیٹی اور میری بیوی امتہ الحی مرحومہ فوت ہو چکی تھی۔بہر حال جیسے اللہ تعالیٰ کی مشقت ہوتی ہے اسی طرح ہوتا ہے لیکن امتہ الحی مرحومہ کو بھیرہ لا سکا یا نہ لا سکا یہ سب رسمی باتیں ہیں۔انسان کے اندر محبت کے جذبات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ چیز پیدا ہوتی ہے لیکن اگر فلسفیانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کوئی بات نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی جنگ میں تشریف لے گئے تو جو لوگ قید ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آئے ان میں آپ کا ایک داماد بھی تھا جس کو کفار جبراً جنگ کے لئے ساتھ لے گئے تھے۔آپ نے قیدیوں سے کہا تم فدیہ دو اور رہائی حاصل کر لو۔آپ کے داماد نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہاں لکھے جا کر کچھ انتظام کر دوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا یہ نوجوان ایک شریف الطبع انسان تھا با وجود اس کے کہ لوگ اسے کہتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو کھ دو وہ دکھ نہ دیتا وہ کہتا میں مسلمان نہیں اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے کوئی عقیدت نہیں رکھتا لیکن پھر بھی ان کی لڑکی کو کیوں ماروں چنانچہ وہ باوجود دوسروں کے انسانے کے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو دکھ نہیں دیتا تھا جب وہ واپس ملنے گیا تو گھر میں کوئی چیز نہ تھی جو خد یہ کے طور پر دی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے پاس ایک سونے کا ہار تھا جو شادی کے موقع پر والدہ کی طرف سے اسے دیا گیا تھا اس نے اپنے خاوند کو وہ ہار دے کر کہا یہ ہار لے لو اور اسے فدیہ کے طور پر بھجوا دو مسجد میں جا کر جب دوسرے لوگوں نے فدئے پیش کرنے شروع کئے تو ایک شخص رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے داماد نے یہ ہار بطور فدیہ بھیجوایا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے جب ہار پر سے کپڑا اٹھایا تو آپ کی آنکھیں میں آنسو آگئے۔آپ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اگر آپ خواشی سے منظور کر لیں کہ یہ ہار واپس کر دیا جائے تو میں اس کی سفارش کرتا ہوں۔ہار تو ہا ر ہی ہے مگر اسی میں اتنا فرق ہے کہ یہ ہار میری مرحومہ بیوی کے ہاتھ کا تحفہ ہے جو اس نے اپنی بیٹی کو دیا تھا اور میری