تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 85 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 85

عبدالرحمن صاحب جٹ کے نام ایک خصوصی مکتوب لکھا جس میں نصیحت فرمائی کہ حملہ درویشوں کو میر کی طرف سے بعد سلام یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ ان بزرگوں کی آمد کو ایک خدائی نعمت سمجھتے ہوئے ان کی صحبت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں اور ان کے علم و عمل کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔صحابہ کا مقدیس گروہ دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔باوجود اس کے ہم انہیں اپنے آپ کو ان کی محبت سے محروم کرتے ہوئے آپ کے پاس بھجوائے جا رہے ہیں۔پس اس نعمت کی قدر کریں اور دعاؤں اور نوافل پر پہلے سے بھی زیادہ زور دیں اور باہم اتحاد اور تعاون اور بزرگوں کے ادب کا وہ نمونہ قائم کریں ہجو اسلام آپ سے چاہتا ہے۔ہم نہیں کہ سکتے کہ ہمارا پیارا مرکز ہمیں کب واپس ملے گا۔مگر جب تک تمہیں وہ واپس نہیں ملتا ان بزرگوں کا وجود اور ان کے ساتھ آپ جیسے مخلص اور جانثار درویشوں کا وجود اس شمع کا حکم رکھتا ہے جو ایک وسیع اور تاریک میدان میں اکیلی اور تن تنہا روشن ہو کر دیکھنے والوں کے لئے نور ہدایت کا کام دیتی ہے۔اگر آپ مخلوص نیت اور سچی محبت اور پاک جذبہ خدمت کے ساتھ قادیان میں ٹھہریں گے اور اپنے آپ کو احمدیت کا اعلیٰ نمونہ بنائیں گے تو نہ صرف خدا کے حضور میں آپ کی یہ خدمت خاص قدر کی نگاہ سے یکھی جائے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی آپ کے اس نمونہ کو فخر کی نظر سے رکھیں گی " فهرست یہ قافلہ مندرجہ دلیل اصحاب پرمشتمل تھا ہے۔: میاں محمد دین صاحب واصلباقی (والد ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب) حلقہ مسجد مبارک) بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ام بابا شیر محمد صاحب - چودھری سلطان احمد صاحب میاں خیردین صاحب ه الفضل اور امی ۱۳۲۷ میش صفحه ۲ * ) امیر قافله) l " , "