تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 82
66 اور ان کے ورثاء کی تلاش میں ہر ممکن ذرائع بروئے کار لاتے۔جناب ملک مصلاح الدین صاحب ایم۔اسے درویش قادیان (مؤلعت اصحاب احمد) کا ایک اہم مکتوب اختیار انقلاب لاہور مورخہ 19 مئی شہر میں اغوا شدہ مستورات کی برآمدگی کے لئے قادریان کی نسائی " کے عنوان سے شائع ہوا جس سے اس سلسلہ میں درویشان قادیان کی اجتماعی کوششوں کا صحیح نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ملک صاحب نے تحریر فرمایا کہ ناظرین کرام ! امروزه صحبت میں اغوا شدہ مستورات اور سکھ بنے ہوئے مسلمانوں کے متعلق قادریاں میں مقیم احمدیوں کی مساعی کا ذکر کرتا ہوں۔ہم بہت محنت سے دریافت کر سہتے رہتے ہیں کہ اغوا شدہ عورتوں کے نام کیا کیا ہیں۔وہ کس کس گاؤں میں کس کے پاس رہتی ہیں۔اپنی اور ان کی بے بسی کی وجہ سے ہمارے دل پر کچھ کچھ گزرتی ہے اس کا اندازہ آپ نہیں کر سکتے۔ان کی خاطر ہم ہر وقت کڑھتے ہیں۔کبھی ڈپٹی کمشنر کو فون کرتے ہیں، کبھی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اطلاع دیتے ہیں کبھی مقامی تھانیدار اور مقامی مجسٹریٹ کو خبر پہنچاتے ہیں۔کبھی کامرس کے عہدہ داروں یا ضلع کے پیسٹی آفیسر سے مدد چاہتے ہیں۔اسی طرح میجر جنرل عبدالرحمن ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی فہرست بھجواتے ہیں غرض کہ ان کی خاطر ہم ماہی بے آپ کی طرح تڑپتے ہیں اور ان کی برآمدگی کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔جب بھی کوئی عورت خاکروبوں کی مدد سے یا ہماری اذان سن کر یا غیر مسلموں کی باتوں سے معلوم کر کے کہ قادیان میں مسلمان رہتے ہیں ہمارے پاس پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہمارے دل بلیوں اچھلتے ہیں اور ہم خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے ہوئے ایک دوسرے کو خوشخبری سناتے ہیں۔ایسی عورتوں کے قیام کے لئے ایک کھلا جو بارہ مقرر ہے جس پر ایک ربقیه حاشیه صفحے گذشتند) قادیان سے فون پر اطلاع ملی ہے کہ ارد گرد کے علاقہ کی بین مسلمان عورتیں جن میں سے پیش کیوں کے بھی آئی ہوئی تھیں قریباً چودہ پندرہ کی تعداد میں بھائی ہو کہ قادیان میں جمع ہو گئی تھیں ان عورتوں کو گورداسپور کی پولیس قادریان سے گورداسپور لے گئی ہے، تاکہ وہاں سے اپنے انتظام میں لاہور پہنچا ہے۔ان عورتوں میں مسماۃ علام فاطمہ صاحبہ جموں والی اور مسماۃ شریفہ بی بی نہ کی والی بھی شامل تھیں۔ان کے دو شیو کو چاہیے کہ لاہور پہنچ کر سرکاری کیمپ میں بہترے ہیں تاکہ دیہ ہو جانے کی وجہ سے مصیبت زدہ عورتوں کو مرید تکلیف کا سامنانہ ہو۔افسوس ہے پوری تفصیل فون پر معلوم نہیں کی جا سکی " الفضل یہ شہاد اپریل صفحه ۳ کالم ۳)