تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 79
که مسجدیں شرنارتھیوں سے فوراً خالی کرالی جائیں اور آئندہ بھی ان میں کسی کو آباد نہ کیا جائے قادیان کے پہلے درویش کا وصال ۲۶-۲۷ شہادت اپریلش که حافظ نور الہی صاحب متوطن کوٹ مومن ضلع سه گودها و امیر جماعت احمدیہ بہاولنگر جوه از صلح جنوری میش کو پاکستان سے قادیان پہنچے تھے اور نہایت فرشتہ سیرت ، دعا گر ، شب بیدار اور احمدیت کے سچے شیدائی تھے انتقال فرما گئے بحضرت حافظ صاحب وہ پہلے خوش نصیب بزرگ ہیں جن کا زمانہ درویشی میں وصال ہوا اور مسیح محمدی کے قدموں کی مناک بنے اور یہی وہ مخلصانہ تڑپ تھی جو انہیں کشاں کشاں اس مقدس نسبتی میں لے آئی تھی ہے بہشتی مقبرہ سے متصل باغ کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی بہت سی یادگاریں بہشتی مقب سے ملحق باغ کا مقدمہ وابستہ ہیں۔یہی وہ بالغ ہے جس میں حضرت امام مہدی مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا اپریل منہ سے لے کو ۲ جولائی نشہ تک اپنے اہلبیت اور خدام سمیت رہائش پذیر رہے۔اسی کے اندر وہ شانشین ہے جہاں حضرت مسیح موعود علی اسلام بیٹھا کرتے تھے۔اسی مشاہ کو اسی باغ میں خلافت کی پہلی بیعت ہوئی اور حضرت اقدس کا جنازہ پڑھا گیا۔اس باغ میں جماعت کی عیدیں پڑھی جاتی رہیں اور فوت ہونے والے اکثر احباب جماعت کے جنازے بھی اس میں ہوتے رہے۔الغرض قادیانی مقدس مقامات میں اس باغ کو ایک گونہ امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ہم ماہ شہادت ایمیل پش کا واقعہ ہے کہ بعض مقامی حکام کی انگوت پر ایک شخص وریام سنگھ اس باغ میں پایا گیا جس نے بتایا کہ یہ باغ کلا سوالہ کے ایک سکھ کی ماکیت ہے نہیں نے مجھے اپنا نگران بنا کہ بھیجوایا ہے۔باغ کے محافظ درویشوں نے اسے اصل حقیقت بتا کر واپس کر دیا۔مگر وہ اسی دن ظہر کے وقت ے حضرت حافظ صاحب کے والد کا نام حافظ محمد عارف تھا۔شاہ میں پیدا ہوئے حضرت مصلح موعود کی تقریر " حضرت مسیح موعود کے کارنامے “ اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی کتاب " براہین احمدیہ“ سے متاثر ہوئے اور انشراح صدر کے لئے کچھ ماہ مصروف دعا رہے اور آخر و ارڈی نہ شاہ (مطابق ۲۴ فروری ۳ ) کی شب کو خواب میں حضرت مسیح موعود علیدات لام کے نورانی وجود کی زیارت ہوئی اور آپ مئی سلس ء میں داخل احمدیت ہو گئے۔تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۸ شہادت / اپریل ، ہجرت الٹی ، ۲۳۱۹ ہجرت اسٹی ، ۱۹ احسان جون میش آخرالد کے شمارہ میں ملک صلاح الدین صاحبہ ، ایم اے کے تسلیم سے آپ کے سوائے اور سیرت و شمائل پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ