تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 66
صدر انجمن احمدیہ کو انجین کے دفاتہ ، سکول، ہسپتال ، کالج ، سٹرکیں وغیرہ بنانے کے لئے فی الحال ساڑھے تیرہ لاکھ روپے کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔جو نہی محکمہ مجوز تعمیرات سے تعمیری نقشہ منظور ہو کر وصول ہو جائے گا تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا نقشہ منظوری کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔" - مولانا وقار انبالوی نے سفینہ “ (۱۳) نومبر شاہ) میں لکھا :- زوہ حکومت اور عوام کے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے گذشتہ اتوار کو امیر جماعت احمدیہ نے لاہور کے اخبار نویسوں کو اپنی نئی بستی ربوہ کا مقام دیکھنے کی دعوت دی اور انہیں ساتھ لے کر وہاں کا دورہ کیا۔اس دورے کی تفصیلات اخباروں میں آچکی ہیں۔ایک مہا جو کی حیثیت سے ہمارے لئے ربوہ ایک سبق ہے۔ساٹھ لاکھ تنہا تو پاکستان آئے لیکن اس طرح کہ وہاں سے بھی اُجڑے اور یہاں بھی کس پر سی نے انہیں منتشر رکھا یہ لو مسلمان تھے۔رب العالمین کے پرستار اور رو پیلین کے نام لیوا ہمساوات و اخوت کے علمبردار لیکن اتنی بڑی مصیبت بھی انہیں یکجا نہ کرسکی۔اس کے برعکس ہم اقتصادی حیثیت سے احمدیوں پر ہمیشہ طعنہ زن رہے ہیں لیکن ان کی تعظیم، ان کی اخوت اور دکھ سکھ میں ایک دوسر کی حمایت نے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نیا قادیان آباد کرنے کی ابتداء کر دی ہے۔مہاجرین میں وہ لوگ بھی آئے جن میں خدا کے فضل سے ایک ایک آدمی ایسی بستیاں بسا سکتا ہے لیکن ان کا روپیہ ان کی ذات کے علاوہ کسی غریب مہاجر کے کام نہ آسکا۔ربوہ ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہمارے لئے محل نظر ہے۔وہ یہ کہ حکومت بھی اس سے سبق لے سکتی ہے اور مہاجرین کی صنعتی بستیاں اس نمونہ پر بسا سکتی ہے۔اس طرح ربوہ عوام اور حکومت کے لئے ایک مثال ہے اور زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ جیسے چوڑے دعوے کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور عملی کام کرنے والے کوئی دعوے کئے بغیر کچھ کر دکھاتے ہیں " سے اے بحوالہ الفضل ۹ تا ۱۳ نبوت / نومبر۔