تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 65 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 65

تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔اخبار نویسوں کو اس مقام سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک اور سات ہزار ایکڑ کا قطعہ اراضی بھی دکھایا گیا جو ایک صنعتی شہر کی آباد کا کے لئے نہایت موزوں ہے۔4۔"امروز" نے " قادیان کی بجائے ربوہ " کے عنوان سے یہ شذرہ لکھا اور قادیانی جماعت نے چنیوٹ کے قریب ایک بستی بسائی ہے جس کا نام ربوہ رکھا گیا ہے بیول اینڈ ملٹری گزٹ نے اس بستی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔ربوہ کے معنی مقام خداوندی کے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ربوہ عربی میں ٹیلے کو کہتے ہیں۔قادیانیوں کے بانی مرزا غلام احمد تھے جو قادیان کے رہنے والے تھے۔انہوں نے خنشلہ میں انتقال کیا۔ان کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین تھے جنہوں نے 9ہ میں انتقال کیا۔قادیانی جماعت کے موجودہ امام مرزا بشیر الدین محمود احمد جو مرزا غلام اگر صاحب کے بیٹے ہیں دوسرے خلیفہ ہیں۔حکیم صاحب کے انتقال پر قادیانی جماعت دو گروہوں میں بٹ گئی تھی۔ایک جماعت نے مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہاتھ پر بعیت کی دوسری نے جس کے سرگروہ مولوی محمد علی تھے ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔اور لاہور کو اپنا مرکز بنایا۔اس جماعت کے امیر مولوی محمد علی ہیں۔دونوں جماعتوں میں عقائد کے لحاظ سے بھی اختلافات ہیں۔مثلاً اول الذکر جماعت مرزا صاحب کو نبی کہتی ہے۔ثانی الذکر کا خیال ہے کہ وہ مسیح موعود اور مجدد تو تھے لیکن نبی نہیں تھے۔ان کے انکار سے کفر وزم نہیں آتا۔قادیانی جماعت کے نزدیک، قادیان کو بڑا تقدس حاصل ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ ربوہ کو بھی وہ تقدس حاصل ہو گا یا نہیں ؟ "ڈان" نے لکھا -1 دریائے چناب کے کنارے احمدیہ جماعت کی نئی بستی لاہور۔9 نومبر دریائے چناب کے دائیں کنارے پر متصل مینیسوٹ، ایک نیا شہر جس کا نام رابع رکھا گیا ہے۔احمدیہ جماعت کے مہاجرین کی آبادی کے لئے جماعت احمدیہ تعمیر کر رہی ہے۔اس شہر کے آغاز میں دو ہزار مکانات بنائے جائیں گے" 19A ►196'A ے پاکستان ٹائمز بر نومبر ۱۹ بحواله النفس لا تو میر شه : ١٢ سم اور میرا +