تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 52
اه فصل سوم ربوہ میں نرمی سے موجود کی پریس کانفرنس اور اخبار میں چرچا ریوں کی بے آب و گیاہ زمین جسے جماعت احمدیہ کے اولو العزم امام اور قائد سیدنا حضرت مصلح موعود ایک شاندارہ اسلامی شہر میں بدلنے کا تہیہ کئے ہوئے تھے، اگر چہ ابھی تک خفیوں کے ایک مختصر سے کیمپ کا منظر پیش کر رہی تھی مگر خالص انہی تصرف کے باعث عام لوگوں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز بنتی جا رہی تھی اور ضرورت تھی کہ پبلک کو اس بستی کے وسیع جماعتی منصوبہ سے متعارف کروایا جائے تا حکومت اور پاکستان کے عوام کو بھی باہمی تعاون سے نئی بستیاں آباد کرنے کا شوق دو ولولہ پیدا ہو اور ملک ایک نئی روح ، نئے عزم اور نئے جوش کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے لگے۔حضرت مسلح وعود نے اس معظیم دینی ، قومی اور ملی مقصد کے پیش نظریے ماہ نبوت / نومبر میش کو ربوہ میں ایک پریس کا نفرنس سے خطاب فرمایا۔اس کا نفرنس میں لاہور کے تمام مشہور و ممتاز اور کثیر الاشاعت اردو و انگریز کی اخبارات کے مدیہ اور نامہ نگار شامل ہوئے اور نہایت گہرا اثر لے کر گئے۔الفضل کے وقائع نگار خصوصی جناب ثاقب زیروی کی مطبوعہ رپورٹ کے مطابق حضرت امیر مومنین سلسلہ احمدیہ کے بعض ممتاز اصحاب اور لاہور کے مدیروں اور چیف رپورٹروں کی معیت میں ہرماہ نبوت نومبر کو رتن باغ لاہور سے پونے نو بجے صبح موٹر کار میں روانہ ہوئے اور قریباً بارہ بجے ربوہ میں رونق افروز ہوئے۔حضور کے ہمراہ مندرجہ ذیل بزرگ اور احباب سلسلہ تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ،شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لا ہور ، چود ھر کی اللہ اللہ نغال صاحب بیرسٹر ایٹ لاء لاہور ، نواب محمد الدین صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی کہ شہر ، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے ، ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب اور چودھری اگر نہ نصر اللہ خان صاحب۔