تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 49
متاثر نہ ہو" قدیم اور مستند ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اندازاً ساڑھے چار ہزار کی اور ساڑھے چار سو کے قریب دروازے اور کھڑکیاں بھاگٹا نوالہ سے خریدی گئیں جن پر صرف ہیں ہزارہ روپے صرف ہوئے اس عمارتی سامان نے نہ صرف عارضی تعمیرات کا مشکل مسئلہ حل کرنے میں بھارہ کی مدد دی بلکہ بعد کو جب وقتی رہائش گا ہیں گرا دی گئیں تو سامان اچھے داموں پر فروخت ہو گیا یا صدر انجمن تحریک جدید میں تقسیم ہو کہ بہترین جماعتی مصرف میں آیا بچنا نچہ حضور کے حکم سے غرباء کے لئے جود مکانات بنائے گئے ان میں بھی یہ سامان استعمال کیا گیا۔جب عارضی کوارٹروں کے گرانے کا مرحلہ آیا تو حضرت مصلح موعود نے اپنے قلم مبارک سے یہ ہدایت تحریر فرمائی کہ یہ کام سکرڑی صاحب تعمیر کی نگرانی میں ہو کسی اور کا دخل نہ ہو کیسے کہ جو مال لگا ہے وہ ان کا ہے۔ان کو موقعہ منا چاہیئے کہ سب کام سنبھال لیا ہے۔میں ان کا سرٹیفیکیٹ لوں گا۔دو دفعہ پہلی دفعہ کہ میرے سپرد یہ کام ہوا اور سب چیز موجود ہے۔دوسری اور و یہ کہ میں نے یہ کام کیا ہے اور سب علی لیا ہے کچی اینٹ بھی بچائیں۔کوشش کی بجائے " سے اس کے بعد جب سیکرٹری صاحب تعمیر ( عطا محمد صاحب) نے حضور کی خدمت میں مطلوبہ تصدیقات پیش کر کے سامان کی فروخت کے لئے اجازت چاہی تو حضور نے انہیں حکم دیا کہ فروخت کے قواعد پہلے منظور کرائیں " چنانچہ ان احکام کی تعمیل کی گئی اور اس طرح خلیفہ وقت کے بروقت اقدام اور رہنمائی کی بدولت قومی سرمایہ محفوظ ہو گیا۔جہانتک خام اینٹوں کا تعلق تھا حضرت مصلح موعود نے ۲۹ ماہ نبوت / نومبر میش کو اپنے دستخط سے یہ ہدایت بھاری فرمائی کہ به حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ ہدایت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے مکتوب ( مورخه ۱۳۲۰ انعام اکتوبر ش پر رقم فرمائی۔انہوں نے لکھا تھا کہ تھا یک جدید کے سینٹر کوارٹر بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے عارضی تعمیرات کا ایک حصہ گرانا پڑے گا۔صاحبزادہ صاحب اُن دنوں تعمیرات تحریک جدید کے انچارچ کے فرائض انجام دے رہے تھے ،