تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 42
ٹیوب ویل نصب کیا جائے اور اس منصوبہ کو کملی جامہ پہنانے کے لئے کراچھا سے ایک بینر پر بھی منگوایا گیا مگر بعض وجوہ نے یہ سکیم پرسوں تک معرض التواء میں پڑی رہی۔میوہ ٹی بی رنگ کا پہلا تجربہ پہاڑی کے دامن میں کیا گیا جہاں کیسے نصب تھے۔یہ تجربہ قادیانی کہانی قریشی فضل حق صاحب اور ان کے ساتھیوں (غلام نبی صاحب و قریشی محمد اکمل صاحب نے کیا۔) جو اس واد کا غیر ذی زرع میں تلکے لگانے کا عزم کر کے شروع ہوا سے یہاں سکونت پذیر ہو گئے تھے۔یہ اصحاب کئی دنوں تک کھدائی کرتے رہے مگر ہ، فٹ کی گہرائی میں بھی پانی کا کوئی نام و نشان نہ مل سکا۔مجبوراً انہوں نے ایک دوسرے مقام پر کھدائی شروع کر دی کہ اسی دوران ۴۰ فٹ کی گہرائی پر پہنچا کہ بورنا۔ٹیوب میں پھنس گھی میں کو باہر کا انے کے لئے ایک اور گڑھا کھودا جانے لگا خدا کی قدرت امین اس وقت حضرت امیر المؤمنین المصلح الموعود کا ربوہ میں ورڈ مسعود ہوا ہو نہی حضور کے قدم مبارک اس مقدس زمین پر پڑے پھنسی ہوئی نالیوں میں کا ایک جنبش ہوئی اور آن کی آن میں ایک غیبی طاقت نے ان کا سرا پانی کی سطح تک پہنچا دیا۔یہ اار : خاد/ اکتوبر میش کا واقعہ ہے۔جناب چودھری عبدالسلام صاحب اشترایم۔اے نے انہی دنوں الفضل میں اس ایمان افروزہ واقعہ یہ روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:۔" نماز کے بعد حضور مسجد میں ہی بیٹھ گئے اور حکرم قامتی عبد الرحیم صاحب بھٹی سے مکاتبات کی تعمیر کے بارہ میں گفتگو فرماتے رہے۔ابھی حضور قائمی صاحب سے کا سے گفتگو فرما ہی رہے تھے که مستری فضل حق صاحب جو گذشتہ بارہ دنوں سے نلکہ لگانے پر مقررہ تھے اور شب و روز مٹی کی کھدائی میں مصروف تھے بھاگے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ حضور کے یہاں تشریف نانے پر زمین سے پانی آگیا۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہمیں گذشتہ کئی روز سے پانی کی شدید تکلیف تھی۔ایک جگہ ہے۔فٹ تک مٹی کی کھدائی کی گئی مگر پانی نہیں آیا تھا بستری لے یہ جنریٹ تقسیم ہند سے قبل ایک بیرونی ملک سے درآمد کیا گیا تھا اور پاکستان بننے کے بعد کراچی ہی میں تھا ملے حضور کے ہمراہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے بھی تھے۔