تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 43
۴۲ صاحبان نے تنگ آکر دوسری جگہ کھدائی شروع کر دی تھی۔مگر اتفاق کی بات ہے کہ دوسری جگہ بھی تقریباً ہم فٹ جا کہ نلکہ کی ٹیوب بُری طرح مٹی میں پھنس گئی اور حالت یہ ہوگئی کہ نہ تو وہ ٹیوب مٹی کے اندر جاتی تھی اور نہ ہی پاکسانی باہر آسکتی تھی۔چنانچہ متری صاحبان نے صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ ٹیوب کو کیا ہو گیا ہے ایک تیرا گڑھا کھودنا شروع کر دیا تھا۔لیکن جس وقت حضور کے قدم اس زمین پر داخل ہوئے بستری فضل حق صاحب کا بیان ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے نلکہ کی نال کو کوئی قوت خود بخود پانی کے قریب لے جا رہی ہے۔چنانچہ حاضرین نے مستری صاحب کے یہ کلمات سنے کہ حضور پانی آگیا۔تو بے اختیار الحمد للہ زبان پر بھاری ہو گیا۔حضور اس کے بعد دیر تک مستری صاحب سے گفتگو فرماتے رہے اور ہر رنگ میں ان کی حوصلہ افزائی فرماتے رہتے۔اس موقعہ پر جو پانی حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کیا گیا وہ سخت بدبو دارہ اور کڑوا تھا جس کی رنگت زردی مائل اور کسٹرائیل سے ملتی جلتی تھی۔حضرت مصلح موعود نے پانی کی تلاش میں مزید ہدایات دیں جن کی تعمیل میں قریشی صاحب اور ان کے جواں ہمت ساتھیوں نے اپنی جد و جہد تیز سے تیز تر کر دی۔اسی دوڑ دھوپ میں رش کا دوسرا مہینہ آپہنچا مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔آخر 1909 بڑی محنت و مشقت کے بعد موجودہ جامعہ نصرت کے پلاٹ میں پہلا ٹیسٹ بور کیا گیا۔۲۰۰ فٹ تک کھدائی کی گئی اور۔۸ فٹ اور 114 فٹ کی گہرائی سے برآمد شدہ پانی کی دو بوتلیں ۲۱ ماه تبلیغ فروری میش کو کیمیائی تجزیہ کے لئے لائلپور بھجوا دی گئیں۔بورنگ سپیشلسٹ نے اور ماہ تبلیغ فروری +1909 کو یہ رائے دی :- r UNFIT FOR 15 WATER THE DOMESTIC PURPOSES۔IRRIGATION AND یہ پانی زراعت اور گھر یلو استعمال کے قابل نہیں ہے۔چنانچہ رحمت علی صاحب ( WELL SUPERVISOR BORINE OPERATOR LYALLPUR) نے، ۲۶ فروری ۱۹۴۹ کو تجربہ کے نتیجہ کی نقل بھجواتے ہوئے لکھا :- ه الفضل دار اضاور اکتوبر بش صفحه ۴ کالم ۰۲۱