تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 40
۳۹ فیصدی زمین آبادی کے لئے چھوڑی گئی ہے۔ان حالات میں اجمین کہہ سکتی ہے کہ اُن کو لے آؤٹ سے پہلے اصل حقیقت معلوم نہ ہو سکی تھی۔جب لے آؤٹ ہوئی تو انہیں معلوم ہوا کہ جو حق از روئے قانون انہیں ملتا تھا وہ ان کو نہیں ملا۔اس لئے ان کی رضامندی قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔یہ امر بھی مد نظر رکھنے کے قابل ہے کہ ضلع کے افسر صاحب نے جگہ کو دیکھ کر اور سرکاری ضروریات کو دیکھ کہ انجمن کے دعوئی کی تصدیق کی ہے اور کمشنر صاحب ڈویژن نے اس سے اتفاق کیا ہے۔اور یہ امر بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ ہسپتال ، پولیس لائنز ، سرکٹ ہاؤس، میونسپل آفس ایسی عمارتیں ہیں کہ ان کے بنانے کے لئے انجین کو تو مجبور نہیں کیا جا سکتا ، حکومت کو ہی بنانی ہوں گی۔کیا اتنے بڑے بڑے رقبوں پر ایسے چھوٹے سے قصبہ میں حکومت اتنا روپیہ خرچ کرے گی ؟ خصوصاً جبکہ اُسے زمین کی قیمت بھی خود دینی ہوگی کیونکہ پنجاب میونسپل ایکٹ سا مٹر کی دفعہ ۱۹۲ کے رُو سے دس فیصدی زمین کے رقبہ سے زائد زمین حکومت مفت نہیں لے سکتی بلکہ اس کی اسے قیمت دینی پڑتی ہے۔یہ خرج عمارتوں کے علاوہ ہو گا اور جبکہ ضلع کا افسر نہ اتنی زمین کی ضرورت بتاتا ہے نہان میں بعض اداروں کی ضرورت بتاتاہے تو پران کار با کیانی و تومورتیاں کیا جاسکتا کرده کارت باس اور پولیس لائن بنوا کر دے۔ہسپتال کے بنانے کا گو انجمن نے ارادہ ظاہر کیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع سے زیادہ خرچ کر کے اس سے زیادہ نہ ملین میں ہسپتال بنائیں جتنی جگہ میں وہ خود ہسپتال بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا تو فیق رکھتے ہیں۔ان حالات میں اگر یہ علاقے آباد نہ ہوئے تو گرد و غبار کے پھیلانے اور غلاظت کے جمع ہونے کا موجب ہوں گے یا ایک چھوٹی سی میونسپل کمیٹی پر نا قابل برداشت بار ثابت ہوں گے اور پھر حکومت ہی کو مدد کرنی پڑے گی۔ٹاؤن پلینر صاحب نے ایک بات یہ لکھی ہے کہ انمین بڑی قیمت پر زمین فروخت کر رہی ہے۔جہانتک حکومت کا سوال ہے وہ اس زمین کو فروخت کر چکی ہے۔اور اگر وہاں بسنے والے پبلک ادارہ ہوں کی تعمیر کے لئے دعیسا کہ نقشہ سے ظاہر ہے یہاں تین کا لچ ، تین سکول ، ایک سائنس ریسر انسٹی چیوٹ ہسپتال اور انجمن کے دفاتر بننے کی تجویز ہے زمین کی قیمت کے نام سے مالی بوجھ اُٹھانا چاہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔کیونکہ انجمن ایک خیراتی ادارہ ہے شخصی تجارتی