تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 39
۳۸ The proportion of open space in Lahore is about 2۔4 acres per thousand population but most of this is set aside either for passive recreation such as Lawrence gardens, Gol Bagh and Hazuri Bagh or is used privately۔” یعنی اہور کی مثال لی جائے تو یہاں پر ساڑھے سولہ سو ایکٹر سیر گاہوں کے لئے رکھے گئے ہیں، جن میں ایک ہزار ایکڑ تو پرائیویٹ استعمال کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں۔جن میں یونیورسٹی گراؤنڈ، ریس کورس ، چیفس کالج گراؤنڈ ، گورنمنٹ ہاؤس اور دو گالف کورس شامل ہیں سیر گاہوں کا تناسب ۲۰۴ ایکٹر فی ہزار کی آبادی میں رکھا گیا ہے۔لیکن ان کا اکثر حصہ خاموش تفریح گاہوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے مثلاً لارنس گارڈن - گول باغ اور حضوری باغ یا ایسی جگہیں جو پرائیویٹ طور پر استعمال ہوتی ہیں۔یہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ ایسے علاقے جن میں مکانیت کم ہو اور کھلی جیگر زیادہ ہو ، وہ بھی اوپن سپیسز میں شامل ہوتے ہیں۔اس طرح تمام ریلوے لائنرز اور عید گاہ کے لئے جو سینکڑوں کنال رقیہ چھوڑا گیا ہے اور جسے انہین نے اوپن پیسز میں شامل نہیں کیا اوپن سپیس بن جائے گا۔اور اس سے بھی زیادہ علاقہ اوپن سپینز میں چھٹا ہوا سمجھا جائے گا جتنا کہ انجیمین نے درخواست میں لکھا ہے۔اُوپر کے حوالہ جات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال امین کا معقول ہے کہ ان کو اتنی جگہ آبادی کے لئے نہیں دی گئی جتنی کہ قانون کی رو سے دی جانی چاہیئے۔اس کے مقابل پہ ٹاؤن پلینر صاحب کا یہ جو اسی ہے کہ میں نے نقشہ اُن کو دکھا دیا تھا اور انہوں نے اسے منظور کر لیا تھا۔اس جواب کے متعلق دو باتیں قابل غور ہیں۔1۔کیا کسی شخص کا کسی امر کو منظور کر لینا اسے اس کے قانونی حق سے محروم کر دیتا ہے ؟ ۲۔ٹاؤن پلیز صاحب کے اپنے بیان کے مطابق انجمن نے لے آؤٹ کے بعد نقشہ منظور نہیں کیا بلکہ نقشہ لاہور میں ٹاؤن پلیز صاحب نے انجمن کے نمائندوں کو دکھایا اور انہوں نے منظور کیا۔نقشہ کے دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پر کوئی ایسی عبادت نہیں لکھی ہوئی کہ کتنے