تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 38 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 38

۳۷ یعنی کاہور میں منہ سے ٹاؤن پلاننگ کے منصوبوں کی ابتداء ہو چکی ہے اور اب ان علاقوں کی آبادکاری یوں شروع ہو گی :- (1) شاہراہوں کے لئے ۳۰ فیصد اور سیر گاہوں کے لئے 10 فیصد علاقہ استعمال ہو گا۔(ب) بقیہ 4 ایک علاقہ قریباً ۱۷۰ پلاٹوں کے لئے یا ۱۷ مکانات فی ایک کا تعمیر کئے جائیں گے اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ٹاؤن پلیننگ کے رائج الوقت قانون کے مطابق کسی ٹکڑہ زمین سے چالیس فیصدی سڑکوں اور اوپن پیر کے لئے لیا جا سکتا ہے اور باقی ساٹھ فیصدی زمین آبادی کے لئے چھوڑنی چاہیے۔آئین کا دھومی ہے کہ اسے پا حصہ آبادی کے لئے ملا ہے اور اگر پبلک بلڈ نگر کو شامل کیا جائے تو وہ کے قریب ہوتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ٹاؤن پلیز صاحب کے بیان کے رُو سے اوپن سپیز کے لئے مرض بر زمین چھوڑی گئی ہے تو پھر باقی زمین کہاں گئی ؟ ٹاؤن پلینر صاحب اس سے انکار نہیں کرتے که بود تبه انجمن پرائیویٹ یا پبلک بلڈ نگر کے لئے تجویز کیا گیا بتاتی ہے وہ غلط ہے بلکہ تسلیم کرتے این که ۲۲۰۰ مکان ایک ہزار چونتیں ایکٹر میں تجویز کئے گئے ہیں۔جیسا کہ مذکورہ بالا مسٹر کوٹیں کی ٹاؤن پلینینگ سکیم سے اوپر نقل کیا گیا ہے۔ٹاؤن پلیننگ سکیم میں چھ ایکڑ ہر دس ایکڑ سے آبادی کے لئے لئے جاتے ہیں۔پس دو ہزار تین سو کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔سوال یہ ہوتا ہے کہ کیوں اُن کو ساتھ فیصدی زمین نہیں دی گئی جبکہ موجودہ رول ٹاؤن پلیننگ کے متعلق یہی ہے اس بیگہ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ ٹاؤن پلیننگ میمورنڈم مرتبہ کورٹس اور منظور کردہ گورنمنٹ میں اوپن سپیسر کے بارہ میں لکھا ہے :۔Page 9, Para 17 (iii) Open Spaces: are "Taking Lahore as an example there are about 1650 acres set aside for of open space of which about 1,000 acres private ose such as the University grounds, the Race Course, the Chiefs College ground, Government House and two golf courses۔