تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 37 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 37

حساب سے دس ہزار سے زائدہ آدمی بس سکتے ہیں۔۔میں نے سیکم میں اوپن سپیس کے طور پر 4 ہر جگہ چھوڑی ہے۔حالانکہ میونسپل لاز کے رُو سے انٹر چھوڑنی چاہئیے۔اس لئے اس زمین کو چھوٹا نہیں کرتا چاہیے۔۔وہ رقبہ جو انجمن مانگتی ہے اس میں سے ایک حصہ جو گرین پیچڑ ہے ، نشیب ہے۔اس پر آبادی مناسب نہیں۔۔شمال مشرقی رتبہ بھی ویسا ہی ہے۔چیلک بلڈنگ کے لئے جو رقبہ چھوڑا گیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے اور اسے اور کم نہیں کیا جاسکتا۔ان دعا دی اور ان کے خلاف دھاری کی تفصیل میں پڑنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے۔کہ موجودہ تسلیم شدہ طریق ٹاؤن پلین میں آبادی کے رقبہ کے متعلق کیا ہے۔کیونکہ سب مسئلہ کا محور یہی سوال ہے۔پنجمین کہتی ہے کہ اس میں قانون کے مطابق رقبہ آبادی کے لئے نہیں چھوڑا گیا۔اور ٹاؤن پلیز صاحب کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ٹاؤن پلیننگ کے متعلق رائج الوقت کوڈ ( CODE) وہ میمورنڈم ہے جسے مسٹر یو - المر AYLMER۔) پراونشل ٹاؤن پلینز گورنمنٹ پنجاب نے تیار کیا ہے۔((UAYLMER COATES JU'S اور گورنمنٹ پنجاب نے اسے 1982ء میں گورنمنٹ پریس سے شائع کیا ہے۔اس اشاعت کے صفر با پر لکھا ہے وہ * Since 1938 town planning schemes have begun to operate in Lahore and the same what as follows : area would now be developed sore- (a) Roads would use up about 30 percent and open spaces about 10 percent۔(b) The remaining 6 acres would be divided into about 170 plots or 17 houses per acre overall۔”