تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 28
۲۷ 0 (2) جس کا مکان یا پلاٹ قادیان میں تھا۔(8) محلہ مسجد مبارک کے ہمارے قبضہ میں ہونے سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس حلقہ میں کسی کے مکان یا پلاٹ کا ہوتا اس کے حق کو باطل کو دے گا۔(و) پلاٹ اگر کم ہو بھا ئیں تو مکان والے کو مقدم رکھا جائے گابٹ علیکہ پیشہ وروں کی تقسیم کے لحاظ سے خالی زمین والے کو اہمیت حاصل نہ ہو۔رمند پیشے یہ ہو سکتے ہیں۔نائی ، دھوبی ، روزی ، لیبرد ، سقه ، موچی ، ترکھان ، لوہار ، معمار، قلعی گو اشنار ، رنگریز، پینجا، جوتا ، تیلی نقشہ جات کی تیاری کا کام اور سیٹر کا ہے۔حکومت سے متعلقہ سارے کام نواب محمد دین صاحب کریں گے۔اس وقت نقشہ کا کام عبد الباری کے سپرد ہے ، اسی کو رکھئے۔اوور سیٹر۔اس کی منظوری گورنمنٹ نے دینی ہے۔جہاں تک نقشہ کی تیاری کا سوال ہے یہ او در سیر کا کام ہے۔باقی اس کی منظوری کمیٹی دے گی۔ایک کمیٹی بنائی جائے جو تمام عمارتی اور تعمیری کاموں کی سروے رپورٹ۔اسٹیٹ اور بیٹا اور میٹر سے لے کر فیصلہ کرے گی۔ب وہ کمیٹی اپنی ساری رپورٹ مکمل کر کے میرے پاس آخری منظوری کے لئے بھیجے گی کیونکہ روپیہ تو میرے ہاتھ میں ہے۔- پرائیویٹ مکانوں کے نقشہ جات کی منظور کا بھی وہی کمیٹی دے جو انجمن کے نقشے منظور کرے گی ہر نقشہ ادور لیٹر کے پاس بھائے اور وہ کمیٹی میں بھجوائے۔اس کے لئے بھی کچھ اصول ہوں۔مثلاً گورنمنٹ میں یہ اصول ہے کہ اونچائی اتنی ہو۔اور منتقد کا ٹوٹل کمرے کے ٹوٹل سے کیا نسبت رکھتا ہو۔مثلاً اس کی شرط یہ ہوتی ہے کہ منفد کا ٹوٹل کمرے کے ٹوٹل کا م ہو۔دو منزلہ مکان کے متعلق کچھ اصول ہوں۔اس کی کھڑکیوں کے متعلق ریہ) ہو کہ دوسرے کی طرف کھڑکی نہ ہو ہے کہ دیواروں کے متعلق کہ اگر کوئی شخص کسی کو وزار کے استعمالی کی اجازت دیتا ہے تو پھر اس کی مرمت کا حق بھی اسے حاصل ہو گا۔راه روشندان (فرهنگ عامره)