تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 280 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 280

تشریف لائے ہیں۔جو شخص کی قوم کا لیڈر ہوتا ہے نہیں اس کا احترام کرنا چاہیئے۔وہ ہمیں دینا کی باتیں سنائیں گے خواہ ہم انہیں یا نہ مانیں۔ان سے نہیں فائدہ پہنچے گا۔اس طرح تھوڑی دیرہ تقریر کرتے رہے دو میں منٹ کے بعد وہ تقریر کرتے ہوئے یکدم ہوش میں آگئے اور کہنے لگے اس زمانہ میں ایک شخص آیا اور وہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اگر آپ لوگ اسے نہیں مانیں گے تو آپ پر خدائی لے کی طرف سے عذاب آجائے گا۔جب وہ تقریر کر کے بیٹھ گئے تو نہیں نے کہا دیکھیئے نواب صاحب میں نے تو ظاہر نہیں کیا۔کہ آپ احمدی ہیں۔آپ نے تو خود ظاہر کر دیا ہے۔وہ کہنے لگے مجھ سے رہا نہیں گیا۔میں نے کہا ئیں تو پہلے ہی سمجھتا تھا کہ سچی احمدیت چھپی نہیں رہتی۔آپ خواہ کتنا بھی چھپائیں یہ ظاہر ہو کر رہے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ چند بے باقاعدگی کے ساتھ دیتے تھے۔مگر جماعتی کاموں میں انہو ں نے چند سال پہلے تک کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا تھا۔لیکن یہ موقعہ انہیں ایسا ملا کہ جب تک یہ مرکز قائم رہے گا۔ان کا نام بطور یاد گار دنیا میں لیا جائے گا۔یہ ضروری نہیں کہ قادیان کے واپس مل جانے پر اس مرکہ کی اہمیت کم ہو جائے اول تو ہمیں ایک ہی وقت میں کئی مرکز درون کی ضرورت ہے۔دوسرے یہ مرکہ ایک ہے کوئی کے ماتحت قائم کیا جارہا ہے اور جو مرکز پیش گوئی کے ماتحت قائم کیا جائے، اس میں اور دوستر مرکز دن میں بہر حال امتیاز ہوتا ہے۔یہ مقام چونکہ اللہ تو لیے کی پیش گوئی کے ماتحتہ قائم کیا جارہا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ خدا تعالے کے فرنٹتے اس کی حفاظت کریں گے اور اس کی کہ کہیں اس سے وابستہ رہیں گی۔اور یقینا اس مقام سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نواب صاحب مرحوم کا نام بھی قیامت تک قائم رہے گا۔مجھے چوہدری مشتاق احمد صاحب کا انگلستان سے جو خط ملا ہے اس میں انہوں نے میری ۱۹۲۲ رکی ایک خواب لکھی ہے۔جو یہ ہے کہ میں نے رڈیا میں ان کی بیوی کا شم که دیکھیں کہ دہ کہ رہی ہے کہ بابا جی اتنے بیمار ہوتے لیکن نہیں کسی نے اطلاع تک نہیں