تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 277
جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔میں اخلاص تو بہت بہت سے رکھتا تھا لیکن بیعت کا شرف مجھے حضرت خلیفتہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیہ کے زمانہ میں عطا ہوا۔اس اثناء میں میرے بھائی اور میری اہلیہ اور بچے مجھ سے بہت پہلے بیعت کر چکے تھے اور مجھے نہایت افسوس ہے کہ میں اس مقام کو بہت دیر سے پہنچا۔کہیں نے جو اخلاص حاصل کرنے کے بعد بیت میں اس قدر دیر لگادی آج مجھے اسکا سخت انسویس ہورہا ہے لیکن جگہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں اکثر ایسے انجاب ہیں جن پر صداقت کھل چکی ہے مگر وہ کسی دنیوی رکاوٹ کے ماتحت ابھی تامل میں ہیں۔ایسے دوستوں سے ہیں کہتا ہوں۔من نه کروم شمار مدر بکنید الی نہ ہو کہ اسی تامل اور ترودو میں موت آجائے۔اور امام وقت کی شناخت ہے محروم رہ جاؤ۔پس نہایت ضروری ہے کہ جب انشراری صدر ہو جائے تو بعیت میں توقف نہ کیا جائے ہوتے حضرت نواب صاحب کے دل میں یہ حسرت و ارمان زندگی بھر قائم رہا کہ میں نے حضرت مسیح مو و علی اسلام کا مقدس زمانہ دیکھیا، میرے خاندان کے آدمیوں نے بیعت کی ملی کہ میرے بیٹے کو چودھری محمد شریف صاحب ) بفضلہ تعالے اصحابہ کے پاک گروہ میں شامل ہونے کی توفیق مل گئی مگر میں محروم رہا۔اس محرومی کے شدت جاس نے جمعیت کے بعد آپ کے دل میں خدمات سلسلہ کے لئے بہت جوش پیدا کر ڈالا جو رب جلیل کے فصل در غایت ماہ مارا گیا اور آپ پرانے سال میں میں نوجوانوں سے بڑھ کر شوق دوستم د ی سے مصروف عمل رہنے حضرت مصلح موجود نے ہجرت پاکستان کے بعد بھوک ستمبر ۱۳۲۷ سال ۱۹۴۸ میں آپ کو صد امین احمدیہ پاکستان کا پہلا ناظر رحمت در تبلیغ مقر فرمایا۔اور آپ نے یہ خدمت اپنا بیست محنت و استعمال سے ادا کی دیگر اصل کام جس کی خاطر فہ کے عز وجل نے اپنی تقدیر خاص سے آپ کو خلعت ربوہ سے نوازا اور الہی اور برکتوں سے محمور زندگی علی فرمانی مرکز احمدیت ربعہ کے قیام کا عظیم الشان کارنامہ تھا جو آپ کے ہاتھوں خدا کے فضل روزنامه والعقل معد شهر ۲۸ به ۱۹۳۱ء م اور موسم کا