تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 268
٢٥٠ ثابت ہوے اسلام اور موجودہ مغربی نظرئیے کے موضوع پر ۲۱ر ظهور / اگست 4 بجے شام جماعت احمدیہ ایک جلسہ عام میں اثر انگیز خطاب کوئٹہ کے زیرا انجام مارک ہاوس کے احاطہ میں ایک شاندار بلہ منعقد ہوا سبی میں حضرت مصلح موعود نے سوا گھنڑ تک۔۔السلام اور موجودہ مغربی نظرئیے کے موضوع پر ایک فکر انگیز خطاب فرمایا جو ہیں اسلام کے مخصوص نظریات میں سے توحید ، طلاق ، حرمت شراب کرات ازدواج ، جوا اور سزائے موت میں سے ایک ایک کو لے کر ثابت کیا کہ زمانہ حاضرہ میں مغرب کو اسلام کے مقابل بچے نہ ہی سیاسی اور اقتصادی تھیوری میں شکست فاش اٹھانا پڑی ہے اپنے خطاب کے آخر میں فرمایا کہ تمام الی اور تباہی کی بڑھی ہے کہ مسلمان قرآن کریم پر رشتے نہیں صرف رسمی ایمان رکھتے ہیں ورنہ وہ سمجھتے کہ تمام سرکت قرآن کریم پر عمل کرنے میں ہے اور اگر ہم ذرا بھی اس کے احکام سے ادھر ادھر بیٹے تو ہمیں بھی نقصان پہنچے گا اور ہماری آئندہ نسلیں بھی تباہ ہوں گی کہئے اس جلسہ عام میں احباب جماعت احمدیہ کے علاوہ چھ سو کے قریب غیر احمدی معززین بھی شامل ہوئے جن کی نشست کے لئے کرسیوں سو غیر احمدی کی کا انتظام تھا ذاتی ہے کے فضل وکرم سے اس تقریر کا تمام سامعین پر نہایت گرا اثر ہوا ہے کوئٹہ میں حضرت مصلح موعود سے ایک فوجی افسر کی ملاقات کو ٹر میں ایک فوجی افسر کی ملاقات ہوئی۔پیر صاحب ہندوستان کی وسیع جنگی تیاریوں سے خوفرو یہ تھے اور کشمیر کی واپسی کو نا ممکن تصور کرتے تھے مگر حضرت مصلح موعود نے انہیں قرآن مجید کی روشنی میں ایسا بصیرت افریقہ جواب دیا جو ایک مخلص مسلمان کی تسلی و تشفی کے لئے کافی و وافی تھا۔حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں اس واقعہ کی تفصیل حسب ذیل ہے فرمایا : " میں کوئٹہ گیا تو ہالی مجھے کچھ فوجی افسر لینے آئے۔ادھرادھر کی باتیں ہوتی رہیں اسی دوران میں کشمیر کا بھی ذکر آگیا میں نے کہا کشمیر مسلمانوں کو ضرور بنا چاہئیے۔ورنہ اس کے بغیر پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا۔دوسرے دن میرے پرائیویٹ سیکرٹری نے مجھے لکھا کہ خلال کرنیل صاحب آپ سے لینے کے لئے آئے آپ وہ کہتے ہیں کہ میں نے الگ بات کرنی ہے۔میں نے ان کو لکھا کہ آپ کو کوئی کے خطبات کے متن کے لئے ملاحظہ ہو الفضل 4 فتح ۳۳۸ اش / دسمبر ۱۹۵۵ ۶ ه ۳۰ فتح ۳۰۸ اسش بر دسمبر ۰۶۱۹۵۹ Gu صلح ۱۹۳۹ شنبه ۱۹۷۰ - اسم صالح ال ۳ است رنویر کا ۶۱۹۷۲ 4+ الفضل امور ظهور ۳۲۸ آتش را اگست و ۶۱۹۴ و ۳-۴۰ سه ایضاً