تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 262 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 262

نجیجی سے کو ٹیٹر اسٹیٹ کا وسیع پیمانے پر دورہ و معائنہ کرنے اپنے خدم اور کارکنان کو قیمتی صدایات سے نوازہ نے اور الخطبات جمعہ کے ذریعہ مخلصین جماعت کے اندر فکر و عمل کی نئی قوت بھرنے کے بعد مع اہل بیت د رام ۲۱ احسان رمون کو ایک بجے اور دوپہر کنچی سے روانہ ہوئے اور اگلے روز ۲۲ احسان ربون کو پیار بجے کے قریب بخیریت کوئٹہ پہنچنے اسٹیشن پویا حسین کو ئٹہ اپنے امیر میاں بشیر احمد صدا جیب کے ہمراہ بھاری تعداد میں اپنے مقدس دمحبوب آقا کی پیشوائی کے لئے حاضر تھے۔حضور نے سب کو شرف مصافحہ بھینٹا اور پھر مع اہل بیت کاروں کے ذریعہ سے (جن کا اہتمام مقامی جماعت نے کیا تھا ، اپنی قیام گاہ واقع پارک ہاؤس میں تشریف لائے ہو قیام کو ٹنڈ کے اکثر و بیشتر ایام میں حضرت مصلح موعود کی طبعیت سخت علیل رہی حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے تو یہی کیفیت حضور پر نور کا تھی۔جو نہی ہماری کے حملہ میں معمولی سا افاقہ محسوس فرماتے حضور کی دینی مصروفیات میں ایسی نمایاں تیزی اور غیر معمولی سرگرمی پیدا ہو جاتی کہ دیکھنے والا ورطہ حیرت میں پڑ جاتا اس حقیقت کا اندازہ قیام کوئٹہ کے آئندہ دریا شدہ کو الف سے باآسانی لگ سکے گا۔حضرت امیر المومنین اصلح الموعود تقریباً ایک ماہ تک سندھ کی احمدی جاعت کوئی زمانوں کے لے تار ہوجانے کا حکم استان برای موجود تھا حضرت میر یونسی ۲۴ / کو نے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ ہماری جماعت کو اب نئی آزمائشوں کے لئے تیار ہو جانا چاہیئے چنانچہ فرمایا : جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور جہاں تک اللہ تعالے کے دیئے ہوئے علوم اور اس کی دی ہوئی خبروں سے مجھے معلوم ہوتا ہے جماعت کے لئے اب ایک ہی وقت ہیں دو قسم کے زمانے آرہے ہیں اور الہی جماعتوں کے لئے ہمیشہ ہی یہ دونوں زمانے متوازی آیا کرتے ہیں یعنی ایک ہی وقت میں ترقی اور ایک ہی وقت میں تکالیف اور مصائب کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ وہ آخری زمانہ نہیں آجاتا جس میں تمام تکالیف ختم ہو جاتی ہیں اور معرفت ترقیات ہی ترقیات باقی و الفضل بیگم وقار جولائی ۱۳۲۰ / ۶۱۹۲۹ مت له متی